உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hajj 2022: اس سال صرف 10 لاکھ عازمین ہی ادا کرسکیں گے حج، سن رسیدہ افراد کو لے کر بھی بڑا فیصلہ

    Hajj 2022: اس سال صرف 10 لاکھ عازمین ہی ادا کرسکیں گے حج، سن رسیدہ افراد کو لے کر بھی بڑا فیصلہ (File pic)

    Hajj 2022: اس سال صرف 10 لاکھ عازمین ہی ادا کرسکیں گے حج، سن رسیدہ افراد کو لے کر بھی بڑا فیصلہ (File pic)

    Hajj 2022 : سعودی وزارت حج نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال حج 65 سال سے کم عمر عازمین کے لیے ہوگا اور دنیا بھر کے 10 لاکھ عازمین حج ادا کرسکیں گے۔ غیر ملکی عازمین کو روانگی سے 72 گھنٹے قبل کی پی سی آر رپورٹ جمع کرانا ہوگی۔

    • Share this:
      نئی دہلی : کورونا وائرس انفیکشن کو دیکھتے ہوئے اس سال بھی سعودی عرب نے اپنے حج کو لے کر کچھ بندشیں عائد کی ہیں ۔ ان کے تحت اس سال صرف 10 لاکھ لوگ ہی فریضہ حج کی ادائیگی کرسکیں گے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس سال ملک کے اندر اور باہر سے آنے والے وہ فرزندان توحید ہی حج ادا کرپائیں گے ، جنہوں نے ٹیکے کی سبھی ڈوز لگوا لی ہوں گی ۔

      رپورٹس کے مطابق سعودی وزارت حج نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال حج 65 سال سے کم عمر عازمین کے لیے ہوگا اور دنیا بھر کے 10 لاکھ عازمین حج ادا کرسکیں گے۔ غیر ملکی عازمین کو روانگی سے 72 گھنٹے قبل کی پی سی آر رپورٹ جمع کرانا ہوگی۔ سعودی وزارت حج کے مطابق عازمین کو مناسک کی ادائیگی کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس کورونا وبا کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر مجموعی طور پر 60 ہزار سعودی عرب کے شہریوں اور رہائش پذیر افراد کو حج ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔


      مدراس ہائی کورٹ کی اہم ہدایت

      ادھر مدراس ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ چنئی ہوائی اڈے کو ہزاروں عازمین حج کے لیے "بورڈنگ پوائنٹ" بنانے پر غور کریں ۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ایم این بھنڈاری اور جسٹس ڈی بھرت چکرورتی کی بنچ نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کی طرف سے اس کے سکریٹری عبدالقادر کی طرف سے دائر کی گئی پی آئی ایل پر حکم جاری کرتے ہوئے یہ ہدایت دی ۔

      بنچ نے کہا کہ یہ عدالت صرف درخواست پر غور کرنے کے لئے ہدایت جاری کر سکتی ہے۔ اس نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ چنئی ہوائی اڈے کو ہزاروں عازمین حج کے لیے 'بورڈنگ پوائنٹ' بنانے پر غور کریں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: