உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حج ہاؤس تنازعہ: دوارکا کے باشندوں نے جاری کیا بیان، ADRF کے خط کو فرقہ وارانہ قرار دیا 

    حج ہاؤس تنازعہ: دوارکا کے باشندوں نے جاری کیا بیان، ADRF کے خط کو فرقہ وارانہ قرار دیا 

    حج ہاؤس تنازعہ: دوارکا کے باشندوں نے جاری کیا بیان، ADRF کے خط کو فرقہ وارانہ قرار دیا 

    دہلی حج ہاؤس کے حوالے سے جاری تنازعہ کے درمیان، دوارکا کے باشندوں نے آل دوارکا ریزیڈنٹ ویلفیئر فیڈریشن کی طرف سے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو بھیجے گئے خط کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ دوارکا کے باشندوں کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا، جس پر دوارکا کے باشندوں نے ایک دو درجن کی تعداد میں نہیں، 98 دوارکا باشندوں نے دستخط کئے ہیں۔

    • Share this:
    نئی دہلی: دہلی حج ہاؤس کے حوالے سے جاری تنازعہ کے درمیان، دوارکا کے باشندوں نے آل دوارکا ریزیڈنٹ ویلفیئر فیڈریشن کی طرف سے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو بھیجے گئے خط کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ دوارکا کے باشندوں کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا، جس پر دوارکا کے باشندوں نے ایک دو درجن کی تعداد میں نہیں، 98 دوارکا باشندوں نے دستخط کئے ہیں۔ اے ڈی آر ایف کے ذریعہ لکھے گئے خط کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ خط فرقہ پرستی سے بھرا ہوا ہے اور ADRF دوارکا کے باشندوں کی نمائندگی نہیں کرتا، اس بیان دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو بھیجا جائے گا۔ اس کی ایک کاپی ڈی ڈی اے کو بھی بھیجی جائے گی۔ بیان جاری کرنے والے لوگوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں شکایت بھی کریں گے۔

    اے ڈی آر ایف معمولی تنظیم نہیں کرتی ہماری نمائندگی

    جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم ADRS اور ہندو شکتی سنگتھن کی طرف سے انل بیجل لیفٹیننٹ گورنر اور ڈی ڈی اے کو بھیجے گئے فرقہ وارانہ خط کی مذمت کرتے ہیں ۔2008 میں سیکٹر 22 دوارکا میں حج ہاؤس کے لیے پلاٹ الاٹ کیا گیا تھا ، یہ خط فرقہ وارانہ انداز میں لکھا گیا تھا۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اے ڈی آر ایف تمام دوارکا باشندوں کی نمائندگی نہیں کرتا ، یہ ایک چھوٹا سا گروپ جو لوگوں میں نفرت پھیلانے اور بھڑکانے کا کام کرتا ہے۔

    دہلی حج ہاؤس کے حوالے سے جاری تنازعہ کے درمیان، دوارکا کے باشندوں نے آل دوارکا ریزیڈنٹ ویلفیئر فیڈریشن کی طرف سے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو بھیجے گئے خط کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
    دہلی حج ہاؤس کے حوالے سے جاری تنازعہ کے درمیان، دوارکا کے باشندوں نے آل دوارکا ریزیڈنٹ ویلفیئر فیڈریشن کی طرف سے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو بھیجے گئے خط کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔


    ہندو تیرتھ یاترا اور مذہبی تیوہاروں پر ہزاروں کروڑ خرچ کرتی ہے سرکار

    اے ڈی آر ایف کی طرف سے بھیجے گئے خط میں کئی سوالات اٹھائے گئے جن کے جوابات جاری کردہ بیان میں دیئے گئے ہیں۔ A. سوال: ایسی سہولت مسلمانوں کو کیوں دی جا رہی ہے جبکہ ہندو یاتریوں کو ایسی کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔
    جواب: صرف مسلمان حج پر جاتے ہیں ، اس لیے حج ہاؤس ہندوؤں کے لیے نہیں ہے بلکہ ہندو برادری اور دیگر کمیونٹیوں کے مذہبی تہواروں پر ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت سہولیات اور دیگر چیزوں پر بھاری فنڈز اور بجٹ خرچ کرتی ہے۔
    دوارکا میں حج ہاؤس کے سامنے نعرے لگائے گئے، جے شری رام، جے شری رام، یہ زمین ہماری ہے، ہم اس کا فیصلہ کریں گے۔

    جواب: ہندوؤں کے بہت سے تہواروں اور یاترا، دوروں کے لئے، مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت ہر سال بہت زیادہ بجٹ خرچ کر رہی ہے اور پہلے بھی خرچ کر چکی ہیں۔ خاص طور پر ہری دوار اور الہ آباد میں چار کنبھ میلے لگائے گئے تھے۔ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کی طرف سے بہت بڑا بجٹ خرچ کیا گیا اور میلے کے مقام کی  تعمیر، لاکھوں افراد کی آمد ورفت اور دیگر سہولیات بڑا بجٹ فنڈ خرچ کیا گیا۔  2014 میں ، مرکز نے اترپردیش کے الہ آباد کمبھ پر 1150 کروڑ خرچ کیے ،ریاستی حکومت نے گیارہ کروڑ روپے خرچ کیے جبکہ 2015 میں ، مدھیہ پردیش کے ہستیناپور مہاکمبھ کے لیے ، جس کا اہتمام 12 سالوں میں صرف ایک بار اجین میں ہوتا ہے اس کے لئے وزارت ثقافت نے 100 کروڑ روپے خرچ کیے جب کہ مدھیہ پردیش کی ریاستی حکومت 3400 کروڑ اس مہاکمبھ کے لیے پہلے ہی مختص کر رکھے تھے۔
    C. سوال: ہمارے ٹیکس کی رقم مسلمانوں کے لئے خرچ نہیں کی جا سکتی۔
    C. جواب: ہندو کمیونٹی اور دیگر کمیونٹیز کے لیے حکومت سفر کرنے آتی ہے، خاص طور پر کیلاش مانسروور یاترا، اب حکومت نے خود سیکورٹی اور طبی سہولیات کے لئے بہت بڑا بجٹ ترتیب دیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت دو طریقوں سے ٹیکس وصول کرتی ہے، براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس میں، مسلم کمیونٹی ہر کسی کی طرح ٹیکس ادا کرتی ہے، اس کے علاوہ کئی ریاستی حکومتیں ہیں جو مذہبی زیارتوں پر سبسڈی دیتی ہیں۔ امر ناتھ شرائن بورڈ بنایا گیا ہے، اتر پردیش کی اکھلیش حکومت تبت اور چین جانے والے یاتریوں کو کیلاش مانسروور کے سفر پر 50000 کی سبسڈی دیتی ہے۔

     اے ڈی آر ایف کی طرف سے بھیجے گئے خط میں کئی سوالات اٹھائے گئے جن کے جوابات جاری کردہ بیان میں دیئے گئے ہیں۔ A. سوال: ایسی سہولت مسلمانوں کو کیوں دی جا رہی ہے جبکہ ہندو یاتریوں کو ایسی کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔
    اے ڈی آر ایف کی طرف سے بھیجے گئے خط میں کئی سوالات اٹھائے گئے جن کے جوابات جاری کردہ بیان میں دیئے گئے ہیں۔ A. سوال: ایسی سہولت مسلمانوں کو کیوں دی جا رہی ہے جبکہ ہندو یاتریوں کو ایسی کوئی سہولت نہیں دی جاتی۔


    دوارکا میں حج ہاؤس سے ٹریفک کے مسئلے کا سچ 

    اے ڈی آر ایف   کے صدر اجیت سوامی نے سوال اٹھایا تھا کہ دوارکا میں 15 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ اگر یہاں پر ہر بات اور دوسری ریاستوں سے لوگ آئیں گے تو یہاں پر ٹریفک جام کا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا جس کا جواب دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دوارکا میں39 ممالک کے لئے 34 ہیکٹر زمین پر ڈپلومیٹک انکلیو بنایا جا رہا ہے۔ کنونشن سنٹر 88 ہیکٹر میں بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے دوارکا میں صدر دفتر کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں دہلی حکومت  ایک آئی ایس بی ٹی بنا رہی ہے جو دہلی اور ملحقہ ریاستوں میں سفر کی سہولیات مہیا کر آئے گا ۔ دوارکا میں روزانہ تقریبا  دو لاکھ مسافر آیا کریں گے ، اس کے علاوہ سیکٹر 21 میں ایک منی آئی ایس بی ٹی بنایا جائے گا۔ جو دوارکا سے ہوائی اڈے پر جانے والے مسافروں اور آس پاس کی ریاستوں پنجاب ہریانہ سے آنے والی وولوو بسوں کے لیے پارکنگ سہولت فراہم کرے گا۔یہاں روزانہ تقریبا پندرہ سے 20000 افراد کی آمد ورفت ہوگی۔
    جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عازمین حج کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ پورے ہندوستان سے تقریبا  146000 سے 2.5 لاکھ لوگ ہر سال حج کے لئے جاتے جاتے ہیں جن میں سے  20000 سے 25000 لوگ حج پر دہلی ایئرپورٹ سے  جاتے ہیں  ، پھر جانے کے عمل میں 15 سے 20 دن لگتے ہیں۔ روزانہ تقریبا 1500 سے 2000 لوگ ائیرپورٹ  دہلی آتے ہیں ، اس طرح ٹریفک کا مسئلہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ اگر دیکھا جائے تو دوسری ریاستوں کے شہروں میں جو حج ہاؤس بنائے گئے ہیں وہ بھی سماجی خدمت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ، دوارکا کے باشندوں سے اپیل کی گئی ہے کہ دوارکا میں باہمی مفاہمت اور بھائی چارہ کو برقرار رکھنے کے لیے اے ڈی آر ایف کو مسترد کریں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: