உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttarakhand Election: رام نگر پر جذباتی ہورہے ہریش راوت کو لگے گا جھٹکا! کیا کسی اور سیٹ سے لڑائے گی کانگریس؟

    اتراکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ ہریش راوت۔ 
News18 Illustrations.

    اتراکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ ہریش راوت۔ News18 Illustrations.

    چونکہ ہریش راوت نے 28 جنوری کو نامزدگی داخل کرنے اور 27 جنوری کو رام نگر میں باقاعدہ پدیاترا کرنے کا اعلان سوشل میڈیا پر کیا ہے، تو سیٹ بدلنے پر فیصلہ آج بدھ کو ہی سامنے آنے کی امید ہے۔

    • Share this:
      ہلدوانی: سابق وزیراعلیٰ ہریش راوت کی سیٹ بدلی جاسکتی ہے! یہ چونکانے والی بڑی خبر سامنے آتے ہی اتراکھنڈ کانگریس ہی نہیں، بلکہ ریاست کے تمام سیاسی گلیاروں میں ہلچل بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رام نگر سیٹ پر راوت کے خلاف کانگریس کے اندر دیکھے جارہی غیر اطمینانی کی وجہسے پارٹی ان کی سیٹ بدلنے پر غور کررہی ہے، تو دوسری طرف راوت رام نگر سیٹ کو لے کر بھروسہ مند نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے منگل دیر رات سوشل میڈیا پر رام نگر کے لئے ایک جذباتی پوسٹ لکھا اور یہاں سے 28 جنوری کو نامزدگی داخل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔


      کانگریس نے حال ہی میں امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کرتے ہوئے رام نگر سے سابق وزیراعلیی اور کانگریس کمپین کمیٹی کے صدر ہریش راوت کو امیدوار بنایا ہے۔ اس کے چند گھنٹوں میں ہی ریاستی کانگریس کے کارگذار صدر رنجیت سنگھ راوت اور ان کے خیمے سے اس کی مخالفت شروع ہوگئی۔ رنجیت راوت اور ان کے حامیوں نے ہریش راوت کے خلاف الیکشن لڑنے تک کا قدم اٹھایا۔ اُدھر، دوسری فہرست کے کچھ اور امیدواروں کو لے کر بھی اسی طرح کی مخالفت کی آوازیں بلند نظر آئیں تو پارٹی کے اندرونی ذرائع کے حوالے سے خبریں آئی کہ کانگریس اب ایسے تمام امیدواروں کی سیٹ بدلنے پر غور کررہی ہے۔

      تو کہاں سے لڑیں گے ہریش راوت؟
      فی الحال اس سوال کو لے کر تجسس برقرار ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کالاڈھونگی، لال کنواں یا ہریدوار دیہات سیٹ سے پارٹی راوت کو الیکشن لڑانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ ساتھ ہی کانگریس کچھ اور امیدواروں کی سیٹوں میں بھی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ چونکہ ہریش راوت نے 28 جنوری کو نامزدگی داخل کرنے اور 27 جنوری کو رام نگر میں باقاعدہ پدیاترا کرنے کا اعلان سوشل میڈیا پر کیا ہے، تو سیٹ بدلنے پر فیصلہ آج بدھ کو ہی سامنے آنے کی امید ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: