உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستانی صحافی کے الزامات کا Hamid Ansari نے دیا جواب، کہا- میرے خلاف جھوٹ پھیلا جا رہا ہے، نہ نصرت مرزا کو بلایا اور نہ ان سے ملا

    Hamid Ansari: سابق نائب صدر حامد انصاری نے کہا کہ پاکستانی صحافی نصرت مرزا کے الزامات سے متعلق میرے خلاف جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔ نائب صدر کی طرف سے غیرملکی مہمانوں کو دعوت نامہ حکومت کے مشورے پر وزارت خارجہ کے توسط سے دیا جاتا ہے۔ میں نے نہ تو انہیں مدعو کیا اور نہ ملا ہوں۔

    Hamid Ansari: سابق نائب صدر حامد انصاری نے کہا کہ پاکستانی صحافی نصرت مرزا کے الزامات سے متعلق میرے خلاف جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔ نائب صدر کی طرف سے غیرملکی مہمانوں کو دعوت نامہ حکومت کے مشورے پر وزارت خارجہ کے توسط سے دیا جاتا ہے۔ میں نے نہ تو انہیں مدعو کیا اور نہ ملا ہوں۔

    Hamid Ansari: سابق نائب صدر حامد انصاری نے کہا کہ پاکستانی صحافی نصرت مرزا کے الزامات سے متعلق میرے خلاف جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔ نائب صدر کی طرف سے غیرملکی مہمانوں کو دعوت نامہ حکومت کے مشورے پر وزارت خارجہ کے توسط سے دیا جاتا ہے۔ میں نے نہ تو انہیں مدعو کیا اور نہ ملا ہوں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستانی صحافی نصرت مرزا کے الزامات پرحامد انصاری نے کہا کہ میرے خلاف جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔ نائب صدر کی طرف سے غیرملکی مہمانوں کو دعوت حکومت کے مشورے پر وزارت خارجہ کے ذریعہ دی جاتی ہے۔ میں نے نہ تو انہیں مدعو کیا اور نہ ملا ہوں۔ دراصل، پاکستانی صحافی نصرت مرزا نے انٹروی میں انکشاف کیا ہے کہ وہ اس وقت کے نائب صدر حامد انصاری کی دعوت پر ہندوستان آئے تھے۔ انہیں اپنے دورے پر ہندوستان میں کئی حساس خفیہ اطلاعات حاصل ہوئی تھیں۔ اس انکشاف کے بعد بی جے پی نے سابق نائب صدر اور کانگریس پر جم کر تنقیدکی ہے۔

      حامد انصاری نے کہا کہ ایران کے سفیر کے طور پر میرے کام کی جانکاری تب کی حکومت کو تھی۔ میں قومی سلامتی کے عزائم سے بندھا ہوا ہوں اور ایسے معاملوں میں ردعمل سے بچتا ہوں۔ ہندوستانی حکومت کے پاس سبھی جانکاری ہے۔ تہران میں میری مدت کے بعد اقوام متحدہ سلامتی کونسل( UNSC) میں میں ہندوستان کا مستقل نمائندہ نامزد ہوا اور میرے کام کی پہچان بیرون ممالک اور ملک میں کی گئی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Gyanvapi Masjid Case: ہائی کورٹ میں 31 سال پرانے معاملے میں سماعت، مقدمے کی میرٹ کو دیا گیا چیلنج

      حامد انصاری نے بتایا کہ دہشت گردی کے موضوع پر میں نے ایک اجلاس کا افتتاح 11 دسمبر 2010 کو کیا تھا۔ اس پروگرام میں آئے مہمانوں کی فہرست آرگنائزروں نے تیار کی تھی۔ میں نے پاکستانی صحافی نصرت مرزا کو کبھی نہیں بلایا اور نہ ہی ملا۔

      نصرت مرزا کے اس انکشاف کے بعد ہندوستان میں ہنگامہ مچ گیا۔ اس انکشاف کے بعد بی جے پی ترجمان گورو بھاٹیا نے پریس کانفرنس کرکے کانگریس اور سابق نائب صدر حامد انصاری پر تنقید کی ہے۔ بی جے پی لیڈر گورو بھاٹیا نے کہا، سابق نائب صدر حامد انصاری ایسے آدمی کو 5 بار بلاتے ہیں جو خود ہی انٹرویو میں کہتا ہے کہ اس کے ساتھ حساس خفیہ جانکاری شیئرکی گئی اور یہ اطلاعات اس نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی (ISI) کے ساتھ شیئر کی، جس کا استعمال ہندوستان کے خلاف کیا گیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: