உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آندھرا پردیش: کرنول میں ہنومان جینتی کے موقع پر مسجد کے پاس نعرے بازی سے کشیدگی، جلوس پر پتھراو سے 15 افراد زخمی

    آندھرا پردیش: کرنول میں ہنومان جینتی کے موقع پر مسجد کے پاس نعرے بازی سے کشیدگی

    آندھرا پردیش: کرنول میں ہنومان جینتی کے موقع پر مسجد کے پاس نعرے بازی سے کشیدگی

    Stone Pelting on Religious Procession: آندھرا پردیش کے کورنول ضلع کے ہولا گنڈا گاوں میں دو فرقوں کے درمیان معمولی جھڑپ کے بعد کشیدگی (Stone Pelting on Religious Procession) کی صورتحال پیدا ہوگئی، لیکن پولیس کی مداخلت سے اور دونوں فریق کو خاموش کرائے جانے کے بعد اب صورتحال معمول پر ہے۔

    • Share this:
      امراوتی: آندھرا پردیش کے کورنول ضلع کے ہولا گنڈا گاوں میں دو فرقوں کے درمیان معمولی جھڑپ کے بعد کشیدگی (Stone Pelting on Religious Procession) کی صورتحال پیدا ہوگئی، لیکن پولیس کی مداخلت سے اور دونوں فریق کو خاموش کرائے جانے کے بعد اب صورتحال معمول پر ہے۔ پولیس ذرائع نے اتوار کو یہ جانکاری دی۔ جھڑپ ہفتہ کی رات اس وقت ہوئی، جب ہنومان جینتی کے موقع پر مذہبی جلوس نکالے جانے کے بعد مسجد کے پاس ’جے شری رام‘ کی نعرے بازی کی گئی۔

      اطلاعات کے مطابق، جب جلوس گاوں کی ایک مسجد کے پاس پہنچا تو رمضان کے پیش نظر جینتی کے آرگنائزروں نے مائیک بند کردیا، لیکن کچھ ’بھکتوں‘ نے مبینہ طور پر ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے۔ اس سے ناراض ہوکر ایک برادری کے لوگوں نے ہنومان جینتی کے جلوس پر پتھراو شروع کردیا۔ پولیس نے کہا کہ اس کے بعد جلوس میں شامل لوگوں نے بھی پتھراو کیا۔ جلوس پر ہوئی پتھر بازی میں تقریباً 15 لوگ معمولی طور پر زخمی ہوگئے ہیں۔

      پولیس دونوں فریق کے لوگوں کو خاموش کرانے کے لئے مقامی پولیس اسٹیشن لے گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ تھانے میں بھی دونوں فریق کے درمیان کشیدگی کی صورتحال بنی رہنے کے بعد افسران نے دونوں فریق کو سخت وارننگ دی، تب جاکر امن وامان کا ماحول قائم ہو سکا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      جہانگیر پوری تشدد معاملہ میں دہلی پولیس نے درج کی FIR، اب تک 15 مشتبہ افراد حراست میں

      کرنول کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھیر کمار ریڈی صورتحال کی نگرانی کے لئے ہولا گنڈا گاوں پہنچے۔ کسی بھی ناگہانی حادثہ کو روکنے کے لئے اضافی پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر سومو ویر راجو نے حادثہ کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ہنومان جینتی کے جلوس پر حملہ مسجد سے شروع ہوا۔ ویر راجو نے قصورواروں کو فوراً گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

      فی الحال اس معاملے میں پولیس نے 20 لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اس حادثہ کے بعد پولیس نے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے اور حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: