உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہاپوڑ: فیکٹری حادثے میں مہلوکین کی تعداد 13 ہوگئی، کسان-مزدور ایسوسی ایشن نے معاوضے کو لے کر کیا احتجاج

    کسان مزدور ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر برہما سنگھ رانا نے کہا، ’ہم متاثرہ فیملی کو ایک ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ دینے اور غیر قانونی طور پر چل رہی سبھی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس حادثہ کو لے کر دھولانہ پولیس تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 286, 287, 304، 308, 337 اور 338 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

    کسان مزدور ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر برہما سنگھ رانا نے کہا، ’ہم متاثرہ فیملی کو ایک ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ دینے اور غیر قانونی طور پر چل رہی سبھی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس حادثہ کو لے کر دھولانہ پولیس تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 286, 287, 304، 308, 337 اور 338 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

    کسان مزدور ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر برہما سنگھ رانا نے کہا، ’ہم متاثرہ فیملی کو ایک ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ دینے اور غیر قانونی طور پر چل رہی سبھی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس حادثہ کو لے کر دھولانہ پولیس تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 286, 287, 304، 308, 337 اور 338 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

    • Share this:
      ہاپوڑ: اترپردیش کے ہاپوڑ واقع ایک فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے ہوئی آتشزدگی میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 13 تک جاپہنچی ہے۔ اس حادثہ کو لے کر کسان مزدور ایسوسی ایشن نے اتوار کو فیکٹری کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وہ ہر ایک مہلوک کی فیملی کو ایک ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

      کسان مزدور ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر برہما سنگھ رانا نے کہا، ’ہم متاثرہ فیملی کو ایک ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ دینے اور غیر قانونی طور پر چل رہی سبھی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس حادثہ کو لے کر دھولانہ پولیس تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 286, 287, 304، 308, 337 اور 338 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری میں پٹاخوں کی تعمیر کی جاتی تھی۔

      قومی راجدھانی سے قریب 80 کلو میٹر دور دھولانہ میں یو پی ایس آئی ڈی سی (صنعتی علاقہ) میں واقع فیکٹری میں متاثرہ علاقے میں تقریباً 30 لوگ تھے، جب یہ حادثہ پیش آیا۔ اس سے پہلے ہاپوڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپک بھکر نے بتایا کہ حادثے میں 12 لوگوں کی موت ہوگئی اور 21 زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

      ہاپوڑ کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم نے بتایا کہ دھولانہ کی متعلقہ انڈسٹریز کو الیکٹرنک سامان بنانے کا لائسنس ملا ہوا تھا، ایسے میں دھماکہ خیز سامان کیسے بن رہا تھا، اس کی جانچ کی جائے گی اور اسی کے مطابق کارروائی ہوگی۔

      ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ صنعتی علاقہ میں ایک ایک فیکٹری کی جانچ ہوگی۔ جانچ میں کوئی افسر یا دیگر جو بھی قصور وار پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ میدھا روپم نے کہا کہ انتظامیہ کی کوشش یہ یقینی کرنا ہے کہ زخمیوں کو بہترین علاج حاصل کریں اور ان میں سے کچھ کو صفدر جنگ اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: