رات سوا 11 بجے ہوا حادثہ، دو بجے پہنچ پائی راحت ٹرین

نئی دہلی۔ مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع کے كڑاوا گاؤں میں كاماينی ایکسپریس اور جنتا ایکسپریس کے ڈبے پٹری سے اتر جانے کے بعد اس حادثے میں مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

Aug 05, 2015 10:16 AM IST | Updated on: Aug 05, 2015 10:16 AM IST
رات سوا 11 بجے ہوا حادثہ، دو بجے پہنچ پائی راحت ٹرین

نئی دہلی۔ مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع کے كڑاوا گاؤں میں كاماينی ایکسپریس اور جنتا ایکسپریس کے ڈبے پٹری سے اتر جانے کے بعد اس حادثے میں مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ہردا اسٹیشن پر لوگ اپنوں کی تلاش میں بدحواس ہیں، توجائے حادثہ پر بھی راحت اور بچاؤ کے کاموں میں رخنہ پیش آ رہا ہے۔

چوبیس میں سے 10 کوچ پہنچے ہردا

Loading...

ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر ہردا اسٹیشن پہنچنے والی كاماينی ایکسپریس منگل کو دیر رات حادثے کے بعد صبح تقریبا 3 بجے ہردا پہنچی، لیکن اس کے 24 میں سے صرف 10 کوچ ہی ہردا پہنچ سکے۔ جب گاڑی وہاں پہنچی تو اس میں سوار لوگوں کے لواحقین اپنوں کی تلاش میں بھٹکتے ملے۔ ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جن کے لواحقین اس حادثے کا شکار ہو گئے تو کئی ایسے بھی تھے جن کے اہل خانہ کے زخمی ہونے کی خبر ملی۔

دیر سے ملی راحت اور مدد

مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ رات کو 11 سے سوا 11 بجے کے درمیان ہوا اور رات 12 بجے میڈیکل ٹیم روانہ ہوئی اور رات تقریبا 12.30 بریک ڈاون روانہ ہوا جو ایک سے ڈیڑھ بجے تک ہردا اور پھر وہاں سے جائے حادثہ پر تقریبا دو بجے پہنچ سکا۔ اس معاملے پر جب ہم نے ہردا کلکٹر رجنیش شریواستو سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ہمیں تقریباً ساڑھے گیارہ بجے مل گئی تھی اور ہم لوگ، ایمبولنس، راحتی عملہ اور تمام دوسرے افسران جائے حادثہ پر رات ایک سے ڈیڑھ بجے تک پہنچ گئے تھے۔ وہاں پہنچ کر ہم نے زخمیوں کو ابتدائی علاج مہیا کروایا، لوگوں کو نکالا۔ ریلوے کے امدادی سامان کے وقت پر پہنچنے کی بات پر کلکٹر نے کچھ کہنے سے صاف انکار کر دیا۔ وہیں دوسری طرف جب ہم نے مقامی سطح پر اپنے ذرائع سے جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ امدادی سامان پہنچانے میں دیر تو ہوئی۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ اس حادثے کی سنگینی کو بھی سمجھ نہیں پائے۔ ظاہر ہے کہ لوگوں کو مدد پہنچانے میں کافی وقت لگ گیا۔ اگر ٹائم پر مدد ملتی تو اور بھی کئی لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا۔

بڑھ سکتی ہے مرنے والوں کی تعداد

انتظامیہ کی جانب سے بھلے ہی مرنے والوں کی تعداد 24 بتائی جا رہی ہے، لیکن عینی شاہدین دعوی کر رہے ہیں کہ تقریبا 50 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ اگرچہ غوطہ خوردریا میں اترے ہوئے ہیں اور لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔

ہردا میں دھوپ کھلی، لیکن موقع تک پہنچنا مشکل

گزشتہ تین دن سے مسلسل بارش کے بعد آج صبح یہاں کا موسم کھلا ہوا ہے۔ ہردا میں دھوپ نکل گئی ہے ایسے میں راحت اور بچاو کے کاموں میں تیزی آئے گی۔ ہردا ضلع کے پی آر او وٹھل ماهیشوري کا کہنا ہے کہ چونکہ ضلع میں گزشتہ تین دن سے مسلسل بارش ہو رہی تھی اس لئے بھوپال، اندور اور کھنڈوا کی طرف جانے والے تمام راستوں کا رابطہ مقامی چھوٹی ندیوں، نالوں کے طغیانی پر آنے کی وجہ سے بند تھا جس سے یہاں جانا کافی مشکل ہو رہا ہے۔ان کے مطابق موسم کھلنے سے سڑکوں سے پانی اتر رہا ہے، لیکن پھر بھی مشکلات تو ہیں۔

Loading...