گجرات میراتھن تھا، اب دہلی اور لکھنؤ بھی پہنچیں گے : ہاردک

نئی دہلی۔ گجرات میں پٹیل کمیونٹی کے لئے جاری تحریک کو نئی سمت دینے کے مقصد سے ہاردک پٹیل آج دہلی پہنچے۔

Aug 30, 2015 02:06 PM IST | Updated on: Aug 30, 2015 02:06 PM IST
گجرات میراتھن تھا، اب دہلی اور لکھنؤ بھی پہنچیں گے : ہاردک

نئی دہلی۔ گجرات میں پٹیل کمیونٹی کے لئے جاری تحریک کو نئی سمت دینے کے مقصد سے ہاردک پٹیل آج دہلی پہنچے۔  ہاردک پٹیل نے میڈیا کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ لوگ جنتر منتر پر احتجاج اور ریلی کرنے پر غور کر رہے ہیں، ہم ایسا لکھنؤ میں بھی کر سکتے ہیں۔

گجرات میں آندولن کو میراتھن بتاتے ہوئے ہاردک نے کہا کہ اگر ہم دہلی میں حمایت چاہیں گے تو وہ ہمیں مل جائے گی۔ دہلی پہنچنے کے بعد ہاردک پٹیل نے کہا تھا کہ ہم لوگ یہاں کسی وزیر یا لیڈر سے ملنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی تحریک کو ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی لے جانا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہم دہلی پہنچے ہیں جہاں اس تحریک کے مستقبل پر بات چیت کی جائے گی۔ ہم جاٹوں اور گوجروں کو ریزرویشن کے لئے بھی حمایت دینا چاہتے ہیں۔

Loading...

ادھر، گجرات ہائی کورٹ سے سی آئی ڈی انکوائری کے احکامات جاری ہونے کے بعد دو انسپکٹر اور ایک ڈپٹی انسپکٹر سمیت نو پولیس اہلکاروں پر پٹیل ریزرویشن تحریک کے دوران 32 سالہ ایک شخص کی مبینہ طور پر حراست میں ہوئی موت کو لے کر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ پولیس کمشنر کے ڈی پانڈیا نے کہا کہ ہم نے شویتانگ موت کے معاملے میں جمعہ کو دیر رات باپونگر کے پولیس انسپکٹرپی ڈی پرمار، آر آر وساوا، ایک ڈی اسٹاف پی ایس آئی اور ڈی اسٹاف کے چھ دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

تاہم، شویتانگ کے خاندان کے وکیل نے دعوی کیا کہ ایف آئی آر میں حراست میں مبینہ طور پر موت کے لئے ذمہ دار تمام پولیس افسران کے نام نہیں ہیں۔ ادھر، تحریک کی قیادت کر رہے ہاردک پٹیل نے ہفتہ کو کہا کہ وہ مبینہ طور پر حراست میں وفات پا گئے سویتانگ پٹیل کے آخری رسوم میں اتوار کو شامل ہو سکتے ہیں اور خبردار کیا کہ اگر کچھ ہوا تو حکومت ذمہ دار ہوگی۔

معلوم ہو کہ شویتانگ کو 25 اگست کو پولیس مبینہ طور پر زبردستی پکڑ کر لے گئی تھی۔ شویتانگ کی ماں پربھابین پٹیل کی درخواست کے مطابق، اسے پولیس نے مبینہ طور پر بری طرح مارا پیٹا اور اس نے دم توڑ دیا۔ گجرات ہائی کورٹ نے جمعہ کو کہا تھا کہ بادی النظرمیں یہ قتل کا معاملہ ہے۔

 

Loading...