உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہریانہ : نوح میں مدرسہ کے 11 سال کے طالب علم کا قتل، 13 سالہ ساتھی گرفتار، جانئے پورا معاملہ

    ہریانہ : نوح میں مدرسہ کے 11 سال کے طالب علم کا قتل، 13 سالہ ساتھی گرفتار، جانئے پورا معاملہ ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    ہریانہ : نوح میں مدرسہ کے 11 سال کے طالب علم کا قتل، 13 سالہ ساتھی گرفتار، جانئے پورا معاملہ ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    ہریانہ کے نوح سے ایک حیران کردینے والا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ یہاں کے ایک مدرسہ میں ایک گیارہ سال کے طالب علم کا قتل کا معاملہ سامنے آنے کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Haryana | Nuh | Chandigarh
    • Share this:
      نوح : ہریانہ کے نوح سے ایک حیران کردینے والا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ یہاں کے ایک مدرسہ میں ایک گیارہ سال کے طالب علم کا قتل کا معاملہ سامنے آنے کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نوح کے گاوں شاہ چوکھا میں پانچ ستمبر کو پیر دادا شاہ چوکھا کی مزار کے پاس واقع مدرسہ میں پڑھنے والے گیارہ سال کے ایک طالب علم کی لاش ملی تھی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جمیعت علما کے دائرے کو منظم انداز میں گاوں گاوں تک پہنچانا وقت کی بڑی ضرورت


      پولیس نے اس سلسلہ میں ایک نابالغ کو گرفتار کیا ہے ۔ ایس ایچ او ستبیر سنگھ نے دعوی کیا ہے کہ پوچھ گچھ میں گرفتار 13 سال کے طالب علم نے بتایا کہ وہ مدرسہ میں پڑھنا نہیں چاہتا تھا، اس لئے اس نے مدرسہ کا نام بدنام کرنے کیلئے قتل کے واقعہ کو انجام دیا ۔ تاکہ مدرسہ بند ہوجائے اور وہ اس سے باہر نکل سے ۔


      یہ بھی پڑھئے: ہریانہ میں بڑھی ائمہ کی سیلری، جانئے اب ایک مہینے میں ملے گی کتنی تنخواہ


      ستبیر سنگھ کے مطابق مدرسہ کے طالب علم کی موت کے سلسلہ میں جانچ کی گئی تھی ۔ جانچ میں یہ پایا گیا کہ اسی مدرسہ کے ایک دیگر 13 سال کے طالب علم نے اس کا قتل کردیا تھا، کیونکہ وہ مدرسہ سے باہر نکلنا چاہتا تھا اور اسکول جانا چاہتا ہے ۔ ملزم لڑکا مدرسہ میں پڑھنا نہیں چاہتا تھا، اس لئے اس نے مدرسہ کا نام بدنام کرنے کیلئے یہ حرکت کی ۔ تاکہ وہ بند ہوجائے ۔

      وہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق نوح ضلع کے ایس پی ورون سنگل کا کہنا ہے کہ جانچ کے دوران پتہ چلا کہ ملزم لڑکا اور مقتول طالب علم ایک ساتھ کھیلتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ان کا رویہ اچھا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: