ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسان آندولن: وزیر زراعت سے ملے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر، کہا- دو تین دنوں میں نکل سکتا ہے مسئلے کا حل

Manohar Lal Khattar meet Agriculture Minister NS Tomar: مرکزی وزیر زراعت سے ملاقات کے بعد منوہر لال کھٹر نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ اگلے 3-2 دنوں میں حکومت اور کسانوں میں بات ہو سکتی ہے۔ کسانوں کی مخالفت کا حل بات چیت کے ذریعہ نکلنا چاہئے۔

  • Share this:
کسان آندولن: وزیر زراعت سے ملے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر، کہا- دو تین دنوں میں نکل سکتا ہے مسئلے کا حل
کسان آندولن: وزیر زراعت سے ملے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر، کہا- دو تین دنوں میں نکل سکتا ہے مسئلے کا حل

نئی دہلی: زرعی قانون (Farm Law) کو لے کر کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ کسان اپنے مطالبات کو لے کر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی درمیان ہفتہ کو ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر (Haryana CM Manohar Lal Khattar) نے مرکزی زرعی وزیر نریندر سنگھ تومر (Agriculture Minister Narendra Singh Tomar) سے ملاقات کی۔ دونوں لیڈروں نے زرعی قانون پر تبادلہ خیال کیا۔ مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر سے ملاقات کے بعد منوہر لال کھٹر نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ اگلے 3-2 دن میں حکومت اور کسانوں میں بات ہوسکتی ہے۔ کسانوں کی مخالفت کا حل بات چیت کے ذریعہ نکلنا چاہئے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، منوہر لال کھٹر نے کہا کہ اس مسئلے کو جلد ازجلد حل کیا جانا چاہئے۔






اپنے مطالبات پر اڑے کسان

قابل ذکر ہے کہ تین زرعی قانون کو لے کر مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان تعطل بنا ہوا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں کسان دہلی بارڈر پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بات چیت کے لئے تیار ہیں، لیکن کسان اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت تینوں زرعی قانون کو منسوخ کریں۔

زرعی وزیر نے کسانوں کو لکھا خط

مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسانوں کے نام خط لکھا ہے۔ اس خط میں زرعی وزیر نے سدھار قوانین کے فائدے بتائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے احتجاج کر رہے ہیں کسانوں میں سے کچھ لوگوں کے ذریعہ افواہ پھیلانے کی بات بھی کہی ہے۔ وزیر زراعت نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ وہ خود بھی کسان ہیں اور کھیتی کے چیلنجز کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت گزشتہ چھ سالوں سے کسانوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کم از کم سپورٹ قیمت (ایم ایس پی) سے متعلق انہوں نے کہا ہے کہ ایم ایس پی جاری ہے اور آگے بھی کسانوں کو ایم ایس پی ملتی رہے گی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 19, 2020 10:40 PM IST