உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرنال میں سپر مال کے سپا سینٹر پر چھاپہ، اندر جو کچھ ملا اس کو دیکھ کر سبھی کے اڑگئے ہوش! دیکھئے VIDEO

    karnal Spa center Police Raid: سپر مال کے کئی سپا سنٹروں پر پولیس نے چھاپے مارے ، جہاں سے کئی لڑکیوں کو حراست میں لیا گیا ۔ پکڑی گئی لڑکیاں کیمرے کے سامنے آتے ہی اپنا منہ چھپا کر بھاگ رہی تھیں ۔

    karnal Spa center Police Raid: سپر مال کے کئی سپا سنٹروں پر پولیس نے چھاپے مارے ، جہاں سے کئی لڑکیوں کو حراست میں لیا گیا ۔ پکڑی گئی لڑکیاں کیمرے کے سامنے آتے ہی اپنا منہ چھپا کر بھاگ رہی تھیں ۔

    karnal Spa center Police Raid: سپر مال کے کئی سپا سنٹروں پر پولیس نے چھاپے مارے ، جہاں سے کئی لڑکیوں کو حراست میں لیا گیا ۔ پکڑی گئی لڑکیاں کیمرے کے سامنے آتے ہی اپنا منہ چھپا کر بھاگ رہی تھیں ۔

    • Share this:
      کرنال : کرنال کے سپر مال میں واقع سپا سنٹر (Spa center)  پر کرنال پولس (karnal Police) نے چھاپہ مارا۔ پولیس کو سپر مال کے سپا سنٹر میں غلط کاموں کی مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں اور پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی تھی ۔ آج سپر مال کے کئی سپا سنٹروں پر پولیس نے چھاپے مارے ، جہاں سے کئی لڑکیوں کو حراست میں لیا گیا ۔ پکڑی گئی لڑکیاں کیمرے کے سامنے آتے ہی اپنا منہ چھپا کر بھاگ رہی تھیں ۔

      پولیس نے اس چھاپے کے دوران کچھ لڑکوں کو بھی حراست میں لیا ہے۔ سپر مال میں کئی مساج پارلر چل رہے تھے، شکایت بھی موصول ہوئی تھی کہ یہاں غلط کام ہوتا ہے ، جسم فروشی کا کاروبار بھی چلتا ہے ، لیکن پولیس اس کو نظر انداز کر رہی تھی ، لیکن آج جب پولیس وہاں پہنچی تو سپر مال میں افراتفری مچ گئی ۔

      سپا سینٹر سے کنڈوم، شراب کی بوتلیں اور بیئر کی بوتلیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ فی الحال حراست میں لئے گئے سبھی لڑکے اور لڑکیوں کو میڈیکل کیلئے لے جایا جائے گا۔ مال میں آنے والے لوگ بھی سپا سنٹر میں ہونے والے گھنونے کام سے کافی پریشان تھے ، لیکن اب لوگ بھی سمجھ رہے ہیں کہ اگر پولیس کارروائی کرے گی تو اس کا اچھا پیغام جائے گا ۔

      یہ لڑکیاں دوسری ریاستوں سے آ کر یہاں پر سپا سنٹر میں کام کرنے لگ جاتی ہیں اور زیادہ پیسوں کی لالچ میں سپا سنٹر میں غلط کام شروع ہوجاتا ہے ، جس کی وجہ سے آج پولس کی طرف سے یہ چھاپہ مارا گیا ہے ۔ سپر مال کرنال کے پوش علاقے سیکٹر 12 میں واقع ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: