உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jhajjar Gas Leak: کتھا فیکٹری میں امونیا گیس کے رساو سے مچی افراتفری، ملازمین کی گھٹنے لگی سانسیں

    Jhajjar Gas Leak: کتھا فیکٹری میں امونیا گیس کے رساو سے مچی افراتفری، ملازمین کی گھٹنے لگی سانسیں

    Jhajjar Gas Leak: کتھا فیکٹری میں امونیا گیس کے رساو سے مچی افراتفری، ملازمین کی گھٹنے لگی سانسیں

    ہریانہ کے جھجر میں دیر شام اس وقت افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا جب یہاں کے رہائشی علاقہ میں چل رہی کتھا فیکٹری سے امونیا گیس کا رساو شروع ہوگیا ۔ واقعہ تقریبا ساڑھے نو بجے پیش آیا ۔

    • Share this:
      جھجر : ہریانہ کے جھجر میں دیر شام اس وقت افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا جب یہاں کے رہائشی علاقہ میں چل رہی کتھا فیکٹری سے امونیا گیس کا رساو شروع ہوگیا ۔ واقعہ تقریبا ساڑھے نو بجے پیش آیا ۔ گیس کے رساو سے جہاں فیکٹر کے ملازمین کو سانس لینے میں پریشانی ہونے لگی تو وہیں آس پاس میں بھی لوگوں کے اندر گھٹن شروع ہوگئی ۔ افراتفری کے ماحول کے درمیان معاملہ کی اطلاع ضلع انتظامیہ کے پاس پہنچی ۔ اطلاع ملتے ہی ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جگنواس اور ڈی ایس پی راہل دیو شرما کے علاوہ دیگر انتظامی افسران اور ملازمین موقع پر پہنچ گئے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : جامع مسجد سرینگر ایک بار پھر بند ، شب قدر اور جمعۃ الوداع کی اجازت نہیں


      سب سے پہلے انتظامیہ نے فورا فیکٹری سے ہورہے گیس رساو کو بند کرایا ۔ اس کے بعد فیکٹری کے اسٹاف کو فیکٹری سے باہر نکال کر انہیں کھانے کیلئے گڑ وغیرہ دیا گیا ۔ فیکٹری کے پڑوس کے لوگوں کو بھی جب گھٹن محسوس ہوئی تو ان میں سے زیادہ تر لوگ کو انتظامیہ نے دوسری جگہ پر بھیج دیا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : شاہ فیصل پھر سے نوکری پر لوٹے، استعفی دے کر بنائی تھی سیاسی پارٹی


      بتایا جارہا ہے کہ اس دوران کئی افراد کے دم گھٹنے اور قے ہونے کی بھی خبریں ہیں ، جنہیں شہر کے اسپتال میں علاج کیلئے بھرتی کرایا گیا ہے ۔ انتظامیہ کی طرف سے فائربریگیڈ محکمہ کی دو گاڑیوں کو جائے واقعہ پر بلا کر پانی کا چھڑاکو بھی کرایا گیا ہے۔ تاکہ لیکیج ہوئی گیس کے اثر کو کم کیا جاسکے ۔

      نیوز لکھے جانے تک ضلع انتظامیہ کے ذریعہ صورتحال کنٹرول میں بتائی جارہی ہے ۔ وہیں واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریاست کی سابق وزیر تعلیم جائے واقعہ پر پہنچ گئیں ۔ انہوں نے حالات کا جائزہ لینے کے ساتھ ہی وہاں موجود افسران سے بھی بات چیت کی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: