உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہریانہ میں مقامی لوگوں کے لیے%75ملازمت کا کوٹہ، کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے کیا خدشات کا اظہار! کہا فیصلے پر کی جائے نظر ثانی

    ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر (Manohar Lal Khattar) نے اس کی وضاحت کی۔

    ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر (Manohar Lal Khattar) نے اس کی وضاحت کی۔

    پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PHDCCI) نے کہا کہ ’’ہمارا خیال ہے کہ کسی بھی ہندوستانی کو ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں بغیر کسی پابندی کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ مقامی لوگوں کے لیے اس طرح 75 فیصد ریزرویشن سے ٹیک کمپنیوں، آٹوموٹو کمپنیوں اور خاص طور پر ملٹی نیشنل کمپنیاں (MNCs) پر برا اثر پڑے گا۔ کیونکہ یہ انتہائی ہنر مند افرادی قوت پر مبنی کمپنیاں ہیں‘‘۔

    • Share this:
      ہریانہ حکومت (Haryana government) کی جانب سے نجی ملازمتوں میں مقامی لوگوں کو 75 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے والے قانون کے نوٹیفکیشن کے بعد انڈیا انکارپوریشن India Inc نے ہفتے کے روز قانون سازی کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا۔ کمپنی نے یہ دعویٰ کیا کہ اس سے ملٹی نیشنل فرموں کو ریاست چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ صنعتی گروپوں نے استدلال پیش کیا کہ ریزرویشن مسابقت کو کم کرتا ہے اور اس نے تجویز پیش کی کہ ریاستی حکومت صنعت کو 25 فیصد سبسڈی فراہم کرے تاکہ ہر مقامی ملازم کے لیے ترغیب حاصل ہوسکے۔

      کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) نے اس فیصلہ پر سخت الفاظ میں ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سی آئی آئی نے کہا کہ ’’ایسے وقت میں جب ریاستی سطح پر سرمایہ کاری کو راغب کرنا ضروری ہے، حکومتوں کو صنعت پر پابندیاں نہیں لگانی چاہئیں۔ ریزرویشن پیداواری صلاحیت اور صنعت کی مسابقت کو متاثر کرتا ہے‘‘۔


      اس نے مزید کہا ہے کہ ’’ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت قانون سازی پر نظر ثانی کرے گی یا کم از کم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قوانین منصفانہ بنے۔ ایک ملک کے طور پر کسی پر بھی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے‘‘۔ انڈسٹری باڈی نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک بھارت شریسٹھا بھارت Ek Bharat Shrestha Bharat کا وژن ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اسی لیے ہمیں اس طرح کے پابندی والے طریقوں کو نہیں دیکھنا چاہئے۔

      ایک اور ادارہ پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PHDCCI) نے کہا کہ ’’ہمارا خیال ہے کہ کسی بھی ہندوستانی کو ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں بغیر کسی پابندی کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ مقامی لوگوں کے لیے اس طرح 75 فیصد ریزرویشن سے ٹیک کمپنیوں، آٹوموٹو کمپنیوں اور خاص طور پر ملٹی نیشنل کمپنیاں (MNCs) پر برا اثر پڑے گا۔ کیونکہ یہ انتہائی ہنر مند افرادی قوت پر مبنی کمپنیاں ہیں‘‘۔

      ایک اور ادارہ پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PHDCCI) نے کہا کہ ’’ہمارا خیال ہے کہ کسی بھی ہندوستانی کو ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں بغیر کسی پابندی کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے‘‘۔
      ایک اور ادارہ پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PHDCCI) نے کہا کہ ’’ہمارا خیال ہے کہ کسی بھی ہندوستانی کو ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں بغیر کسی پابندی کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے‘‘۔


      پی ایچ ڈی سی سی آئی کے صدر پردیپ ملتانی نے کہا کہ ریاستی حکومت ہر مقامی ملازم کے لیے صنعت اور تجارت کو 25 فیصد سبسڈی دے سکتی ہے۔ یہ مقامی لوگوں کی خدمات حاصل کرنے کی ترغیب ہے۔ کوئی مجبوری نہیں ہونی چاہیے‘‘۔
      یہ کب سے نافذ العمل ہوگا؟

      یہ قانون 15 جنوری 2022 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سلسلے میں ہریانہ حکومت نے ہفتہ کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر (Manohar Lal Khattar) نے یہاں ایک سرکاری ریلیز میں کہا کہ ’’ہریانہ اسٹیٹ ایمپلائمنٹ آف لوکل کینڈیڈیٹس ایکٹ 2020 (Haryana State Employment of Local Candidates Act, 2020) کا اطلاق 15 جنوری 2022 سے مقامی نوجوانوں کو نجی شعبے میں روزگار فراہم کرنے کی ترجیح کے ساتھ کیا جائے گا‘‘۔

      ریلیز کے مطابق ریاستی حکومت نے 6 نومبر 2021 کو سرکاری گزٹ میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس میں اس کے آغاز کی تاریخ 15 جنوری 2022 بتائی گئی تھی۔ تاہم ریاست نے ایک اور نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت مذکورہ ایکٹ کے تحت مجموعی ماہانہ تنخواہ یا اجرت کی حد کو 50,000 روپے سے کم کر کے 30,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: