உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ نے کہا : میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہوتی ہے سب سے زیادہ ہیٹ اسپیچ

    سپریم کورٹ نے کہا : میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہوتی ہے سب سے زیادہ ہیٹ اسپیچ

    سپریم کورٹ نے کہا : میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہوتی ہے سب سے زیادہ ہیٹ اسپیچ

    Hate Speech Case: ہیٹ اسپیچ معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ سب سے زیادہ نفرت انگیز تقریر میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہوتی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ ہمارا ملک کدھر جارہا ہے؟ ٹی وی اینکروں کی بڑی ذمہ داری ہے، لیکن ٹی وی اینکر مہمان کو وقت تک نہیں دیتے ہیں، ایسے ماحول میں سرکار خاموش کیوں ہے؟

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : ہیٹ اسپیچ معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ سب سے زیادہ نفرت انگیز تقریر میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہوتی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ ہمارا ملک کدھر جارہا ہے؟ ٹی وی اینکروں کی بڑی ذمہ داری ہے، لیکن ٹی وی اینکر مہمان کو وقت تک نہیں دیتے ہیں، ایسے ماحول میں سرکار خاموش کیوں ہے؟ عدالت نے کہا کہ ایک سخت ریگولیٹری مینکانزم قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے دو ہفتوں کے اندر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے ۔ اب 23 نومبر کو سپریم کورٹ اس معاملہ میں اگلی سماعت کرے گا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: کرناٹک میں حجاب پرپابندی نہیں، صرف یونیفارم پہننے کا دیا حکم، سپریم کورٹ میں حکومت کا جواب


      سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ حکومت پر سوال اٹھائے ہیں ۔ عدالت نے کہا کہ جب دھرم سنسد ہونے جارہی تھی تو آپ نے کیا کارروائی کی؟ کیا آپ نے اس کو روکا؟ اس پر اتراکھنڈ سرکار نے کہا کہ ہم نے دفعہ 144 لاگو کی اور چار لوگوں کو گرفتار کیا۔ وہیں ریاستی سرکار کارروائی کررہی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: ’ای ڈبلیو ایس کوٹہ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی ریزرویشن سے مختلف‘ اٹارنی جنرل نے دیا بیان


      جسٹس جوزیف نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی مذہب تشدد کی تشہیر کرتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ان معاملات میں سزا ایسی ہونی چاہئے کہ وہ ایک ماڈل بن جائے ۔

      عدالت نے کہا کہ کوشش کرنی چاہئے کہ وشاکھا گائیڈلائن کی طرح حدود کے اندر ہم جو کرسکتے ہیں، وہ کریں ۔ عدالت نے کہا کہ اصلی پریشانی ادارے ہیں، مذہب کیا ہے یہ مت دیکھئے ؟
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: