ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Hathras Case : سی ڈی آر میں انکشاف ، متاثرہ کے بھائی اور اہم ملزم کے درمیان 100 مرتبہ فون پر ہوئی بات چیت

Hathras Case Update : سی ڈی آر کے مطابق ملزم سندیپ اور متاثرہ کے کنبہ کے ایک نمبر کے درمیان بات چیت ہوتی تھی ۔ یہ نمبر متاثرہ کے بڑے بھائی کے نام پر رجسٹرڈ ہے ۔

  • Share this:
Hathras Case : سی ڈی آر میں انکشاف ، متاثرہ کے بھائی اور اہم ملزم کے درمیان 100 مرتبہ فون پر ہوئی بات چیت
Hathras Case : سی ڈی آر میں انکشاف ، متاثرہ کے بھائی اور اہم ملزم کے درمیان 100 مرتبہ فون پر ہوئی بات چیت

اترپردیش کے ہاتھرس کیس میں اب نیا انکشاف ہوا ہے ۔ اس کیس میں ایک نیا اور چونکانے والا موڑ سامنے آیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ کے بھائی اور اہم ملزم سندیپ کے درمیان پرانی جانچ پہچان تھی ۔ دونوں کے درمیان فون پر لمبی بات چیت کی بھی بات سامنے آرہی ہے ۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ بات چیت کئی گھنٹوں تک ہوتی تھی ۔ چھ مہینے میں دونوں کے درمیان تقریبا 100 سے زیادہ مرتبہ بات چیت ہوئی ۔


نیوز18 کے پاس وہ سی ڈی آر موجود ہے ، جس کے مطابق ملزم سندیپ اور متاثرہ کے کنبہ کے ایک نمبر کے درمیان بات چیت ہوتی تھی ۔ یہ نمبر متاثرہ کے بڑے بھائی کے نام پر رجسٹرڈ ہے ۔ ان دونوں نمبروں کے درمیان اکتوبر 2019 سے مارچ 2020 کے درمیان تقریبا پانچ گھنٹے کی بات چیت ہوئی تھی ۔




سپریم کورٹ نے واقعہ کو بتایا شاکنگ

ادھر سپریم کورٹ نے اس واقعہ میں ریاستی حکومت کو کچھ باتوں پر حلف نامہ دائر کرنے کی منگل کو ہدایت دی اور سماعت ایک ہفتے کیلئے ٹال دی۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے کی صدارت والی بینچ نے ریاستی حکومت سے حلف نامہ دے کر یہ بتانے کو کہا کہ وہ معاملہ کے گواہوں کی حفاظت کے لئے کیا قدم اٹھارہی ہے اور کیا متاثرہ کے کنبے نے کوئی وکیل منتخب کیا ہے؟ جسٹس بوبڑے نے کہا کہ وہ یقینی بنائیں گے کہ ہاتھرس معاملے کی جانچ صحیح طریقے سے چلے۔

عرضی گزار کی جانب سے پیش وکیل اندرا جے سنگھ نے دلیل دی کہ متاثرہ کا کنبہ سی بی آئی جانچ کی ریاستی حکومت کی سفارش سے مطمئن نہیں ہے ، وہ خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی ) سے ہی جانچ چاہتا ہے، جس کی نگرانی عدالت خود کرے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میں عرضی گزاروں کا ’لوکس‘ ہے یا نہیں ، لیکن ابھی ہم صرف معاملہ کی سماعت اس لئے کررہے ہیں ، کیونکہ یہ ایک دہلا دینے والا معاملہ ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 06, 2020 11:51 PM IST