ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہاتھرس سانحہ: متاثرہ کے والد کی طبیعت ہوئی ناساز، اسپتال میں داخل ہونے سے کیا انکار

ہاتھرس کے سی ایم او برجیش راٹھور نے کہا کہ اطلاع ملی ہے کہ متاثرہ کے والد بیمار ہیں۔ بلڈ پریشر ان کا ہائی ہے۔ میں جا رہا ہوں، دیکھتا ہوں۔ سی ایم او نے بتایا کہ متاثرہ کے والد اسپتال جانے کو تیار نہیں ہیں۔

  • Share this:
ہاتھرس سانحہ: متاثرہ کے والد کی طبیعت ہوئی ناساز، اسپتال میں داخل ہونے سے کیا انکار
ہاتھرس سانحہ: متاثرہ کے والد کی طبیعت ہوئی ناساز، اسپتال میں داخل ہونے سے کیا انکار

ہاتھرس: اترپردیش کے ہاتھرس (Hathras) میں اجتماعی آبرو ریزی متاثرہ (Gangrape Victim) کے والد کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ والد نے خراب طبعیت کے باوجود اسپتال جانے سے انکار کردیا ہے۔ معاملے کے اطلاع ضلع انتظامیہ کو ہوئی تو محکمہ صحت نے خود سی ایم او متاثرہ کے گاوں روانہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود جاکر علاج کے لئے منائیں گے۔ سی ایم او برجیش راٹھور نے کہا کہ اطلاع ملی ہے کہ متاثرہ کے والد بیمار ہیں۔ بلڈ پریشر وغیرہ ان کا بڑھا ہوا ہے، میں جا رہا ہوں، دیکھتا ہوں۔ سی ایم او نے بتایا کہ متاثرہ کے والد اسپتال جانے کو تیار نہیں ہیں۔ کہہ رہے ہیں کچھ اور پریشانیاں بھی ہیں، ہم گاوں جا رہے ہیں۔ گاوں پہنچ کر میں خود ان سے بات کروں گا۔


سی بی آئی ٹیم بھی پہنچ رہی ہے گاوں


دوسری جانب معاملے کی جانچ کے لئے سی بی آئی کی ٹیم منگل کو متاثرہ کے گاوں پہنچ کر موقع معائنہ کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق، سی بی آئی کی تفتیش کے لئے یہاں ایک غیر مستقل دفتر بھی بن سکتا ہے۔ سی بی آئی کے آنے سے پہلے ہاتھرس پولیس نے جائے حادثہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ موقع پر کئی پولیس اہلکار موجود ہیں۔ عام لوگوں کو جائے حادثہ پر نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔ انہیں پہلے ہی روک دیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ سی بی آئی کی ٹیم موقع واردات پر پہنچ کر فورنسک جانچ کا عمل شروع کرنے والی ہے۔


انصاف ملنے تک ارتھی وسرجن نہیں کرے گی فیملی

اس سے پہلے ہاتھرس سانحہ میں متاثرہ فیملی کے لوگ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کے سامنے پیش ہوکر پیر کی دیر راتواپس گھر لوٹ گئے۔ فیملی کے لوگ پولیس کی سخت سیکورٹی کے درمیان واپس ہاتھرس لوٹے ہیں۔ وہیں، گھر لوٹنے کے بعد متاثرہ فیملی نے کہا کہ جب تک انہیں انصاف نہیں مل جاتا، تب تک وہ اپنی بیٹی استھیوں کا وسرجن (Bone Immersion) نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالت کے سامنے اس موضوع کو اٹھایا ہے کہ میری بیٹی کی لاش کو بغیر ہماری اجازت لئے ہوئے جلا دی گئی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 13, 2020 11:50 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading