ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہاتھرس واقعہ : راہل و پرینکا گاندھی سمیت کانگریس کے 200 لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج

Hathras case : یہ ایف آئی آر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے اور وبا کے دوران عام لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں آئی پی سی کی دفعہ 188 ، دفعہ 129 اور 270 کے تحت دراج کرائی گئی ہے ۔

  • Share this:
ہاتھرس واقعہ : راہل و پرینکا گاندھی سمیت کانگریس کے 200 لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج
ہاتھرس واقعہ : راہل و پرینکا گاندھی سمیت کانگریس کے 200 لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج

اترپردیش کے ہاتھرس ضلع میں دلت لڑکی کی موت کے بعد اس کے اہل خانہ سے ملنے جارہے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے ۔ حالانکہ بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا ۔ دیر شام گریٹر نوئیڈا پولیس نے ان دونوں سمیت کانگریس کے 200 لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ۔ راہل اور پرینکا گاندھی کے خلاف گریٹر نوئیڈا ای کوٹیک ون پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے ۔ پولیس نے راہل اور پرینکا سمیت کانگریس کے 200 لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے ۔


یہ ایف آئی آر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے اور وبا کے دوران عام لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں آئی پی سی کی دفعہ 188 ، دفعہ 129 اور 270 کے تحت دراج کرائی گئی ہے ۔ اس سے پہلے کانگریس لیڈروں کو ہاتھرس جانے سے پولیس نے روک دیا تھا اور اس کی وجہ سے کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی ۔


47 خاتون وکلا نے سی جے آئی کو لکھا خط


ادھر ہاتھرس واقعہ کے سلسلے میں 47 خاتون وکلا کے ایک گروپ نے ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) کو خط لکھ کر معاملہ میں ہائی کورٹ کی نگرانی میں جانچ اور ٹرائل کے احکامات دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ خط میں خاتون وکلا نے اس معاملہ میں حقائق اور شواہد میں ہیر پھیر کرنے کی کوشش کرنے والے سبھی قصوروار پولیس اہلکاروں ، انتظامی افسران اور طبی افسران کے خلاف فوری جانچ اور معطلی یا کوئی سزا دینے والی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

وکیلوں نے الزام لگایا کہ بھلے ہی سبھی چار ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے ، لیکن جس طرح سے پولیس افسران نے متاثرہ کے کنبے کے ساتھ خاص کر اس کی بے وقت موت کے بعد سلوک کیا ہے وہ باعث تشویش ہے ۔ خاتون وکلا نے سی جے آئی اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملہ کی ہائی کورٹ کی نگرانی میں جانچ اور ٹرائل کا حکم دیں ۔ تاکہ قانون کی حکمرانی میں ملک کے شہریوں خاص کر خواتین کا اعتماد قائم رہ سکے ۔

واقعہ کی مذمت کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں : ممتا بنرجی

دریں اثنا مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ہاتھرس واقعہ کو وحشیانہ اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکی کی زبردستی آخری رسوم کی ادائیگی نے ان لوگوں کی قلعی کھول دی ہے جو ووٹ حاصل کرنے کیلئے جھوٹے وعدے کرتے ہیں ۔ ممتا بنرجی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا : میرے پاس ہاتھرس میں ایک دلت لڑکی کے ساتھ رونما ہونے والے وحشیانہ اور شرمناک واقعہ کی مذمت کے لئے الفاظ نہیں ہیں ۔ میں ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتی ہوں ۔ کنبے کی موجودگی یا رضامندی کے بغیر آخری رسوم کی ادائیگی اور بھی شرمناک ہے ۔

نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 02, 2020 07:47 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading