ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہاتھرس واقعہ کو سپریم کورٹ نے بتایا شاکنگ ، یوپی حکومت سے مانگی گواہوں کے تحفظ کی جانکاری

Hathras Case : چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میں عرضی گزاروں کا ’لوکس‘ ہے یا نہیں ، لیکن ابھی ہم صرف معاملہ کی سماعت اس لئے کررہے ہیں ، کیونکہ یہ ایک دہلا دینے والا معاملہ ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 06, 2020 04:32 PM IST
  • Share this:
ہاتھرس واقعہ کو سپریم کورٹ نے بتایا شاکنگ ، یوپی حکومت سے مانگی گواہوں کے تحفظ کی جانکاری
ہاتھرس واقعہ کو سپریم کورٹ نے بتایا شاکنگ ، یوپی حکومت سے مانگی گواہوں کے تحفظ کی جانکاری

سپریم کورٹ نے اترپردیش کے ہاتھرس کے مبینہ اجتماعی ریزی اور قتل معاملہ میں ریاستی حکومت کو کچھ باتوں پر حلف نامہ دائر کرنے کی منگل کو ہدایت دی اور سماعت ایک ہفتے کےلئے ٹال دی۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے کی صدارت والی بینچ نے ریاستی حکومت سے حلف نامہ دے کر یہ بتانے کو کہا کہ وہ معاملہ کے گواہوں کی حفاظت کے لئے کیا قدم اٹھارہی ہے اور کیا متاثرہ کے کنبے نے کوئی وکیل منتخب کیا ہے؟ جسٹس بوبڑے نے کہا کہ وہ یقینی بنائیں گے کہ ہاتھرس معاملے کی جانچ صحیح طریقے سے چلے۔


عرضی گزار کی جانب سے پیش وکیل اندرا جے سنگھ نے دلیل دی کہ متاثرہ کا کنبہ سی بی آئی جانچ کی ریاستی حکومت کی سفارش سے مطمئن نہیں ہے ، وہ خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی ) سے ہی جانچ چاہتا ہے، جس کی نگرانی عدالت خود کرے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میں عرضی گزاروں کا ’لوکس‘ ہے یا نہیں ، لیکن ابھی ہم صرف معاملہ کی سماعت اس لئے کررہے ہیں ، کیونکہ یہ ایک دہلا دینے والا معاملہ ہے ۔


خاتون وکیلوں کی جانب سے کیرتی سنگھ نے بھی کہا کہ یہ دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ اس پر جسٹس بوبڑے نے کہا کہ ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ دہلا دینے والا واقعہ ہے ۔ ہم بھی یہ مانتے ہیں تبھی آپ کو سن رہے ہیں ۔ لیکن آپ الہ آباد ہائی کورٹ کیوں نہیں گئیں؟ کیوں نہیں معاملہ کی سماعت پہلے ہائی کورٹ کرے ، جو بحث یہاں ہوسکتی ہے ، وہی بحث ہائی کورٹ میں بھی ہوسکتی ہے ۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہائی کورٹ معاملے کی سماعت کرے؟۔




مختلف فریقوں کی دلیل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ اترپردیش حکومت حقائق پر جواب دے کہ کیا گواہوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کئے جارہےہیں؟ اور کیا متاثرہ کے کنبے نے کوئی افرادی وکیل کیا ہے؟ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت اسے ہائی کورٹ میں مقدمہ کے حالات کے بارے میں مطلع کرائے ۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ جمعرات کو تفصیلی حلف نامہ دائر کردیں گے ۔ اس کے بعد عدالت نے معاملہ کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ٹال دی۔

اس سے پہلے ریاستی حکومت نے صبح میں ہی سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے کہا تھا کہ ہاتھرس معاملہ کے بہانے کچھ میڈیا اہلکار اور سیاسی پارٹیاں ذات اور سماجی بھائی چارے کو بگاڑنے کو کوشش کررہی ہیں۔ انتظامیہ کو اس بات کی خفیہ معلومات تھی کہ بڑی تعداد میں کچھ سیاسی پارٹیوں کے کارکنان اور کچھ شر پسند عناصر جمع ہونے لگے تھے ۔ صبح ذات پات پر مبنی تشدد بھڑک سکتا تھا اور سماجی بھائی چارہ بگڑ سکتا تھا ، اس لئے متاثرہ کے گھروالوں کی رضامندی کے بعد لاش کی پورے رسم و رواج کے ساتھ آخری رسومات ادا کردی گئیں۔

اترپردیش حکومت نے ہاتھرس معاملہ کی سماعت سے پہلے ہی بغیر نوٹس کے اپنی جانب سے منگل کی صبح ایک حلف نامہ دائر کیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ ہاتھرس معاملہ کے بہانے ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کے مقصد سے سوشل میڈیا ، ٹی وی اورپرنٹ میڈیا پر جارحانہ مہم چلائی گئی ۔ ریاستی حکومت نے کہا کہ کچھ میڈیا اہلکار اور سیاسی پارٹیوں کے لوگ ہاتھرس معاملہ کے بہانے اپنے ذات مفادات کیلئے ذات پات اور سماجی بھائی چارے کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 06, 2020 04:30 PM IST