ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہاتھرس اجتماعی آبروریزی: مسلم خواتین کے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس سے جھڑپ

ہاتھرس اجتماعی آبروریزی کے خلاف سڑکوں پر ہونے والے مسلم خواتین کے احتجاجی مظاہرے کو پولیس نے طاقت کے زور پر ختم کرا دیا ہے۔ اجتماعی آبروریزی کےخلاف شہر کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں مسلم خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور یوگی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔

  • Share this:
ہاتھرس اجتماعی آبروریزی: مسلم خواتین کے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس سے جھڑپ
ہاتھرس گینگ ریپ: مسلم خواتین کے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس سے چھڑپ

الہ آباد: ہاتھرس  اجتماعی آبروریزی کے خلاف سڑکوں پر ہونے والے مسلم خواتین کے احتجاجی مظاہرے کو پولیس نے طاقت کے زور پر ختم کرا دیا ہے۔ اجتماعی آبروریزی کےخلاف شہر کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں مسلم خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور یوگی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ ہاتھرس میں ایک بچی کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ اجتماعی آبروریزی  اور اس کی موت کے خلاف الہ آباد میں مسلم خواتین نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔


ہاتھرس اجتماعی آبروریزی کے خلاف سڑکوں پر ہونے والے مسلم خواتین کے احتجاجی مظاہرے کو پولیس نے طاقت کے زور پر ختم کرا دیا ہے۔
ہاتھرس اجتماعی آبروریزی کے خلاف سڑکوں پر ہونے والے مسلم خواتین کے احتجاجی مظاہرے کو پولیس نے طاقت کے زور پر ختم کرا دیا ہے۔


عام آدمی پارٹی اقلیتی شاخ سے وابستہ خواتین نے ہاتھرس آبرویزی کے خلاف سڑکوں پر نکل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ شہر کے مرکزی چوراہے ’’سول لائنس‘‘ پر ہونے والے اس مظاہرے میں خواتین نے بی جے پی کے ان لیڈروں کی تصویروں کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھا تھا، جن پر آبروریزی اور جنسی زیادتی جیسے سنگین  مقدمات درج ہیں۔ خواتین کا احتجاجی جلوس جیسے ہی سول لائنس چوراہے پر پہنچا، وہاں بھاری تعداد میں موجود پولیس فورس نے مظاہرے کو منتشر کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے با وجود خواتین نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور یوگی حکومت کے خلاف نعرے لگاتی رہیں۔


احتجاج کے دوران پولیس اور خواتین کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے احتجاج میں شامل بعض خواتین کو اپنی حراست میں لے لیا ہے۔
احتجاج کے دوران پولیس اور خواتین کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے احتجاج میں شامل بعض خواتین کو اپنی حراست میں لے لیا ہے۔


خواتین کی نعرے بازی کے دوران پولیس نے بزور قوت احتجاجی مظاہرے کو روکنے کی کوشش کی، جس سے پولیس اور خواتین کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے احتجاج میں شامل بعض خواتین کو اپنی حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لئے گئے افراد میں عام آدمی پارٹی کے ضلع صدر ڈاکٹر الطاف احمد بھی شامل ہیں۔ مظاہرے میں شامل ہونے والی ایک خاتون کا کہنا ہےکہ یو پی میں جنسی جرائم کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہاتھرس میں ایک بچی کے ساتھ جس طرح کی حیوانیت کی گئی ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

ہاتھرس میں ایک بچی کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ اجتماعی آبروریزی اور اس کی موت کے خلاف الہ آباد میں مسلم خواتین نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ہاتھرس میں ایک بچی کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ اجتماعی آبروریزی اور اس کی موت کے خلاف الہ آباد میں مسلم خواتین نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔


احتجاج میں شامل طالبہ مریم کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ  پہلے بی جے پی کے ان لیڈروں کا پوسٹر چوراہوں پر لگوائیں جن پر آبروریزی اور جنسی جرائم کے سنگین مقد مات درج ہیں۔ مریم کا کہنا ہے کہ یو گی حکومت جنسی جرائم کے خلاف اٹھنے والی آوازکو دبا دینا چاہتی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ضلع صدر ڈاکٹر الطاف نے پولیس پر خواتین  کے ساتھ زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین پُر امن طریقے سے اپنا احتجاج درج کرانا چاہتی تھیں، لیکن پولیس نے خواتین کے خلاف طاقت استعمال کرکے اپنا غیر جمہوری چہرہ ظاہر کردیا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 29, 2020 09:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading