ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہاتھرس کیس : متاثرہ کنبہ نے ہائی کورٹ میں کہا : پولیس نے معلوم نہیں کس کی آخری رسوم ادا کردی

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ میں ہاتھرس کیس کے متاثرہ کنبہ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ رات میں کس کی آخری رسوم ادا کی گئی ۔

  • Share this:
ہاتھرس کیس : متاثرہ کنبہ نے ہائی کورٹ میں کہا : پولیس نے معلوم نہیں کس کی آخری رسوم ادا کردی
ہاتھرس کیس : متاثرہ کنبہ نے ہائی کورٹ میں کہا : پولیس نے معلوم نہیں کس کی آخری رسوم ادا کردی

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ میں ہاتھرس میں 19 سال کی دلت لڑکی کی مبینہ اجتماعی آبروریزی اور موت کے معاملہ میں پیر کو سماعت ہوئی ۔ اس دوران عدالت میں ہاتھرس کیس کے متاثرہ کنبہ کے لوگوں کے ساتھ افسران نے بھی اپنا موقف پیش کیا ۔ عدالت میں متاثرہ کنبہ نے رات میں آخری رسوم کی ادائیگی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ کس کی آخری رسوم ادا کی گئی ہے ۔ وہیں متاثرہ کنبہ کی وکیل سیما کشواہا کے مطابق کنبہ نے عدالت سے مانگ کی ہے کہ سی بی آئی کی رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے ، کیس کو اترپردیش سے باہر منتقل کیا جائے اور جب تک معاملہ پوری طرح سے ختم نہیں ہوتا ہے ، تب تک کنبہ کو سیکورٹی فراہم کرائی جائے ۔


متاثرہ کنبہ کے بیان کے بعد ہائی کورٹ میں ہاتھرس کے ڈی ایم نے کہا کہ متاثرہ کی آخری رسومات رات میں ادا کرنے کا فیصلہ مقامی انتظامیہ کا تھا ۔ رات میں آخری رسوم کی ادائیگی کو لے کر کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی تھی ۔ لا اینڈ آرڈر بگڑنے کے خدشہ کے پیش نظر رات میں آخری رسوم کی ادائیگی کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ آپ کو بتادیں کہ سخت سیکورٹی میں متاثرہ کے والدین سمیت پانچ اہل خانہ پیر کی صبح چھ بجے ہاتھرس سے لکھنو کیلئے روانہ ہوئے تھے اور دوپہر کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ پہنچے تھے ۔


الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ نے ہاتھرس واقعہ پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملہ میں اعلی افسران کو گزشتہ یکم اکتوبر کو طلب کیا تھا ۔ عدالت نے گزشتہ یکم اکتوبر کو واقعہ کے بارے میں بیان دینے کیلئے متاثرہ کنبہ کے اہل خانہ کو طلب کیا تھا جبکہ یکم اکتوبر کو جسٹس راجن رائے اور جسٹس جسپریت سنگھ نے ریاست کے محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ، ڈی جی پی ، اے ڈی جی پی ، ڈی ایم اور ایس پی کو واقعہ کے بارے میں وضاحت پیش کرنے کیلئے بارہ اکتوبر کو عدالت میں طلب کیا تھا ۔


غور طلب ہے کہ گزشتہ 14 ستمبر کو ہاتھرس ضلع کے چندپا تھانہ حلقہ میں 19 سال کی ایک دلت لڑکی کی اعلی ذات کے چار نوجوانوں نے مبینہ طور پر آبروریزی کی تھی ۔ اس واقعہ کے بعد حالت خراب ہونے پر اس کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا اور پھر اس کو دہلی کے صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا تھا ، جہاں 29 ستمبر کو اس کی موت ہوگئی تھی ۔ اس واقعہ کو لے کر اپوزیشن نے ریاستی حکومت پر زبردست حملہ بولا تھا ۔ وہیں اب اس معاملہ کو سی بی آئی کو سونپ دیا گیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 12, 2020 09:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading