ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہاتھرس آبروریزی واقعہ: ملزمین کی حمایت میں اعلیٰ طبقہ نے کی پنچایت، سی بی آئی جانچ کا کیا خیرمقدم

دراصل مسلسل ملزمین کے خلاف ہوئی کارروائی کو لے کر اعلیٰ طبقے (سورن سماج) کے لوگوں کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔

  • Share this:
ہاتھرس آبروریزی واقعہ: ملزمین کی حمایت میں اعلیٰ طبقہ نے کی پنچایت، سی بی آئی جانچ کا کیا خیرمقدم
ہاتھرس آبروریزی واقعہ: ملزمین کی حمایت میں اعلیٰ طبقہ نے کی پنچایت، سی بی آئی جانچ کا کیا خیرمقدم

ہاتھرس: ہاتھرس اجتماعی آبروریزی (Hathras Gang Rape) کی لڑائی سی بی آئی تک آگئی، لیکن انصاف کی جنگ ابھی جاری ہے۔ اتوار کو ہاتھرس کے بسنت باغ واقع سابق رکن اسمبلی راجویر پہلوان کی رہائش گاہ پر پہلے سے طے پنچایت شروع ہوئی۔ پنچایت میں کئی لوگ جمع ہوئے۔ سابق رکن اسمبلی کی رہائش گاہ پر شروع ہوئی اس پنچایت میں ہاتھرس معاملے کو لے کر کئی اہم باتیں رکھی گئیں۔ پنچایت میں علاقے کے اعلی ذات (Swarn Samaj) کے لوگوں نے پولیس کے ذریعہ گرفتار کئے گئے لوگوں کو بے قصور بتایا ہے۔ وہیں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے سی بی آئی جانچ کی سفارش والے فیصلے کا اعلیٰ طبقے کے لوگوں نے استقبال بھی کیا۔


حادثہ کے بعد متاثرہ فیملی سے ملاقات کرنے پہنچے سماجود پارٹی کے نائب صدر نظام ملک کے ذریعہ ملزمین کے سر کاٹنے پر ایک کروڑ کی رقم دینے کی بات کو لے کر اعلیٰ طبقے میں مخالفت ہے۔ دراصل، مسلسل ملزمین کے خلاف ہوئی کارروائی کو لے کر اعلیٰ طبقے کے لوگوں کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ متاثرہ خاندان پر لگائے گئے سنگین الزام کے بعد میڈیا کےخلاف بھی اعلیٰ طبقے میں ناراضگی دیکھی گئی۔ گاوں میں پولیس کا سخت پہرہ ہے۔ اب ہاتھرس سانحہ کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کرنے کی تیاری ہے۔ یوگی حکومت نے مرکزی حکومت سے اس بات کی سفارش کی ہے، لیکن متاثرہ فیملی سی بی آئی جانچ کی سفارش سے مطمئن نہیں نظر آئی۔


متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے جج سے کروائی جائے۔ حالانکہ فیملی نے یہ بھروسہ جتایا کہ انہیں یوگی حکومت پر پورا بھروسہ ہے۔ ہاتھرس معاملے میں جہاں ایک طرف سیاست تیز ہے وہیں جانچ ایجنسیوں میں بھی تیزی ہے۔ آج ایک بار پھر ایس آئی ٹی کی ٹیم ہاتھرس پہنچی ہے۔ ٹیم ہاتھرس متاثرہ کے گھر پر فیملی کے لوگوں کا بیان ریکارڈ کر رہی ہے۔ اس سے پہلے حادثہ کے بعد ایس آئی ٹی کی ٹیم جائے واردات پر ہنچی تھی۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 04, 2020 03:35 PM IST