یہ مت سمجھیں کہ پانچ ایکڑ زمین مسلمانوں کو خوش کردے گی

دہائیوں قدیم تنازع کا سبب بنا ایودھیا معاملہ کیا عدالت کے فیصلہ کے بعد حل ہوگیا ہے ؟ اس کا جواب اس طرح سے دیا جاسکتا ہے کہ تکنیکی طور پر ہاں ، لیکن جذبات طور پر نا ۔ یہ بات کہنے کی اپنی وجہ ہے ۔

Nov 11, 2019 07:18 PM IST | Updated on: Nov 11, 2019 08:19 PM IST
یہ مت سمجھیں کہ پانچ ایکڑ زمین مسلمانوں کو خوش کردے گی

رام جنم بھومی ۔بابری مسجد اراضی تنازع پرسپریم کورٹ میں آج سماعت۔(تصویر:نیو18)۔

دہائیوں قدیم تنازع کا سبب بنا ایودھیا معاملہ کیا عدالت کے فیصلہ کے بعد حل ہوگیا ہے ؟ اس کا جواب اس طرح سے دیا جاسکتا ہے کہ تکنیکی طور پر ہاں ، لیکن جذبات طور پر نا ۔ یہ بات کہنے کی اپنی وجہ ہے ۔ دراصل مسلمانوں نے اس کو اپنی قسمت تسلیم کرلیا ہے ، لیکن ان کے دلوں میں کسک باقی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

یہی فیصلہ آنا تھا

Loading...

مسلم سماج کے ذہنوں میں کہیں گہرائی میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ یہی فیصلہ آنا تھا اور وہ آگیا ۔ مگر ایسا کیوں ؟ مسلمانوں کو ایسا کیوں لگتا تھا ، انہیں ایسا کیوں خیال آیا ؟ شاید اس کی وجہ حکومت کا انہیں یہ یقین دلانے میں ناکام رہ جانا ہے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس محض ایک نعرہ نہیں ، بلکہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ مسلمانوں کو لگتا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ حکومت کا رویہ سوتیلا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہجومی تشدد جیسے معاملات کی روک تھام کیلئے اب تک قانون بن چکا ہوتا ، مگر ایسا نہیں ہوا ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ حکومت نے ترقیاتی کام نہیں کئے ، اقلیتوں کو لے کر حکومت کے ذریعہ کئے گئے کئی کام قابل تعریف ہیں ۔ اقلیتی امور کی وزارت کی کئی اسکیمیں کافی شاندار رہی ہیں ، لیکن بدقسمتی سے حکومت کے وزرا اور بی جے پی لیڈروں کے بیانات نے سب کچھ خراب کردیا ۔

اس کا  نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اقلیتوں میں پہلے سے موجود خوف اور عدم اعتماد اب مزید گہرا ہوگیا ہے ۔ فیصلہ خواہ سپریم کورٹ نے کیا ہو ، لیکن مسلمانوں کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ۔ یہ اعتماد کی کمی ہے ، جس کو دور کرنے کی کوشش نہ تو حکومت نے کی اور نہ ہی عدالت نے کی ۔ عدالت چونکہ فیصلہ کرتی ہے ، حکومت نہیں چلاتی ، اس لئے ان پر زیادہ ذمہ داری بھی عائد نہیں ہوتی ۔

minority muslims

اچھا ہے نجات ملی

میڈیا میں جو نظر آرہا ہے ، سب کہہ رہے ہیں کہ بات ختم ہوگئی ، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ اقلیتوں میں اس فیصلہ کو لے کر کافی مایوسی ہے ، لیکن سکون بھی ہے کہ چلو جان چھوٹی ۔ دہائیوں سے جو مبینہ برابری کی لڑائی چل رہی تھی وہ تو ختم ہوئی ۔ مایوسی اور سکون دونوں متضاد الفاظ ہیں ، مگر مسلم سماج کی فی الوقت سوچ پر دونوں ہی صحیح ثابت ہوتے ہیں ۔ مایوسی اس لئے ہے کیونکہ پورے معاملہ میں مسلم سماج خود کو فریب خوردہ محسوس کررہا ہے ۔ اس کو لگتا ہے کہ 92 میں جن لوگوں نے کھلے آسمان کے نیچے ایک مسجد کو زمین دوز کردیا ، آج انہیں کی دلیل کو جائز ٹھہرا دیا گیا ۔

یہ بات الگ ہے کہ سپریم کورٹ نے 92 میں بابری مسجد توڑے جانے کو غلط بتایا ہے ، لیکن فیصلہ تو انہیں کے حق میں دیا ۔ دوسری جانب مسلم سماج میں سکون بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد کسی طرح کا کوئی بھی احتجاج ملک بھر میں کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملا ۔ اس وجہ حکومت ، مذہبی اداروں کی اپیلیں نہیں ، بلکہ مسلم سماج کو لگتا ہے کہ یہ تنازع ان کیلئے ایک گالی سے کم نہیں تھا ، اس کے نام پر نہ جانے انہوں نے کتنے فسادات جھیلے ، کتنے گھر جلائے گئے اور صبح و شام میڈیا انہیں کو مورد الزام ٹھہراتا رہا ۔

فیصلہ آنے کے بعد وہ سب بند ہوگیا ۔ ہندو – مسلمانوں میں نفرت کی ایک وجہ سپریم کورٹ نے ختم کردی ۔ اب ان کے بچے اگلے دن سکون سے اسکول جاسکیں گے اور وہ بلا خوف کام پر نکل سکیں گے ۔ جو نقصان ہونا تھا وہ 92 میں ہوچکا ، اب تو صرف رسم پوری کرنا رہ گئی تھی۔

کیا بات ختم ہوگئی

مجھے لگتا ہے کہ یہی حصہ سے سب سے زیادہ پریشان کن ہے ۔ یہ بات دراصل ختم نہیں ہوئی ہے ۔ خاص طور پر مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ جو سوشل میڈیا پر سرگرم ہے ، اس نے فیصلہ پر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی ہے ۔ مسلمانوں کی اس مرتبہ اور پچھلی مرتبہ کی ناراضگی میں ایک تبدیلی ہے ۔ پہلے عموما تیکھا رد عمل مسلم سماج کے نچلے اور انتہائی پسماندہ طبقات کی جانب سے دیکھنے کو ملتا تھا اور عام طور پر مڈل کلاس تعلیم یافتہ طبقہ خاموش رہتا تھا ۔ مگر اب ایسا نہیں ہے ۔ متوسط طبقہ ہی اس فیصلہ کو لے کر زیادہ غیر آرام دہ ہے ، یہ نئی بات ہے ۔

مثال کے طور سوشل میڈیا پر کھل کر ناراضگی ظاہر کرنے والوں میں تسلیم رحمانی اور رعنا ایوب جیسے لوگ شامل ہیں ۔ یہ نیا مسلمان ہے جو کسی مولانا کے کہنے پر نہیں چلتا ، جو متوسط طبقہ سے آتا ہے اور جو کچھ چل رہا ہے وہ اس سے ناخوش ہے ۔ یہ تشویش کی بات ہے کہ جو مڈل کلاس 92 میں بھی اتنا بے باک  نہیں رہا ، وہ اب کیوں ہے ؟ کیا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ؟ غور کیجئے نا تو یہ 92 کا ہندوستان ہے اور نہ ہی مسلمان اب 92 کا ہے ۔

indian muslims

پانچ ایکڑ زمین کا کیا کریں گے

مسلمان پانچ ایکڑ زمین نہیں لینا چاہتے ہیں ۔ ان کو لگتا ہے کہ یہ خیرات دینے جیسا ہے ۔ اگر وہ اس زمین کو قبول کرلیتے ہیں تو یہ دعوی صحیح ثابت ہوجائے گا کہ بابری مسجد پر وہ غلط تھے ۔ ساتھ ہی شریعت کا بھی حوالہ دیا جارہا ہے ۔ شریعت میں سرکاری عطیہ کی زمین پر مسجد کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔ زیادہ تر مسلمان اس بات پر متحد نظر آتے ہیں کہ پانچ ایکڑ زمین نہ لے کر اپنا خاموش احتجاج ضرور درج کرایا جانا چاہئے ۔ یہ مقدمہ پانچ ایکڑ زمین کیلئے نہیں بلکہ بابری مسجد پر حق حاصل کرنے کیلئے تھا ۔ اس کو لے کر سوشل میڈیا میں بھی کافی بحثیں چل رہی ہیں ۔

اب کیا ؟

بابری مسجد کا فیصلہ تو ہوگیا ہے ، اب کیا ؟ عدالت کے فیصلہ کے بعد آر ایس ایس سربراہ کی پریس کانفرنس ، وزیر اعظم مودی کا ٹی وی پر آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ انہیں مستبقل کی فکر ہے اور اندازہ بھی ہے کہ اگر اس کا غلط پیغام چلا گیا تو آنے والی نسلیں اس کی قیمت چکائیں گی ۔ مودی ، راہل گاندھی ، گوگوئی ... ہم سب وقت کے ساتھ ہندوستان کے دامن میں سماجائیں ، مگر ہندوستان وہیں رہے گا ۔ نئی کلیاں کھلیں گی ، نیا ہندوستان بنے گا ، مجھے لگتا ہے کہ فیصلہ تو آگیا ، لیکن سماج کے درمیان گہری ہوئی تلخی کو ختم کرنا ابھی باقی ہے ، یہ بڑا کام ہے ۔

آر ایس ایس نے کاشی ، متھرا سے سنگھ کو الگ رکھنے کی بات کرکے اس سمت میں سنجیدگی سے ایک قدم بڑھایا ہے ۔ حکومت کو اب اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا ۔ یاد رکھئے ملک زمین سے نہیں ، وہاں کے لوگوں سے بنتا ہے ۔ سب کو ساتھ لانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، اس میں بڑا حصہ حکومت کا ہے ۔ اس بات کو بابری مسجد معاملہ کے اہم فریق رہے ہاشم انصاری کی ایک بات سے سمجھا جاسکتا ہے ۔ ہاشم انصاری جب تک زندہ تھے ، یہی کہتے تھے کہ مقدمہ جیت بھی گیا تب بھی مسجد کی تعمیر اس وقت تک شروع نہیں کروں گا جب تک ہندو بھائیوں کو راضی نہیں کرلوں گا ۔ اس میں ہندوستان کے لوگوں کیلئے ایک پیغام ہے ۔ سب کو ساتھ لیجئے ، خواہ جیت ہو یا ہار .... کیا ایسی آواز کوئی سن پارہا ہے ۔

۔( یہ مضمون نگار کی ذاتی رائے ہے ) ۔

Loading...