உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hazrat Ali Birthday: پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے حضرت علیؓ کے یوم ولادت کا جشن، جانیں اس دن کی خاص اہمیت

    Youtube Video

    آج یعنی 15 فروری کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یوم ولادت کا جشن منایا جا رہا ہے۔ انہیں علی بن ابو طالب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ رجب کا مہینہ حضرت علی کے یوم پیدائش کے لئے منسوب ہے۔ حضرت علی پیغمر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ ان کا شمار خلفائے راشدین میں ہوتا ہے اور وہ چوتھے خلیفہ ہیں۔ شیعہ مسلمان انہیں اپنا اول امام مانتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آج یعنی 15 فروری کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یوم ولادت کا جشن منایا جا رہا ہے۔ انہیں علی بن ابو طالب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ رجب کا مہینہ حضرت علی کے یوم پیدائش کے لئے منسوب ہے۔ حضرت علی پیغمر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ ان کا شمار خلفائے راشدین میں ہوتا ہے اور وہ چوتھے خلیفہ ہیں۔ شیعہ مسلمان انہیں اپنا اول امام اور وصی رسول اللہ مانتے ہیں۔ آج کے دن کو امام علی کے یوم پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک حضرت علی کا مرتبہ بہت بلند اور اعلیٰ ہے۔

      ابتدائی دور میں حضرت علی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی۔ اور مسلمانوں کی طرف سے لڑی گئی تقریباً تمام جنگوں میں حصہ لیا۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد انہوں نے پیغمبر اسلام کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سے شادی کی۔حضرت علی بن ابی طالب کی پیدائش انگریزی تاریخ کے مطابق، 15 فروری ہے۔ اسلامی کلینڈر کے لحاظ سے ان کے پیدائش کی تاریخ تیرہ رجب، پانچ سو نناوے عیسوی ہے۔ ان کے والد کا نام ابو طالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد تھا۔ ان کی پیدائش مکہ میں خانہ کعبہ کے احاطے میں ہوئی تھی۔

      مانا جاتا ہے کہ حضرت علی کا شمار سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں  میں ہوتا ہے۔ کئی لوگ انہیں پہلا مسلمان مانتے ہیں۔ اسلام میں انہیں ایک اہم درجہ حاصل ہے، جنہوں نے کئی جنگوں میں پیغمرصاحب کا ساتھ دیا۔ حضرت علی نے آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ سے شادی کی اور ان کے داماد بنے۔ حضرت علی کو ان کی بہادری، اخلاقیات، ایمانداری اور مذہب اسلام کے تئیں ان کے لگن اور جذبہ کی وجہ سے مسلمان ان کا کافی احترام کرتے ہیں۔

      حضرت علی رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ ہیں۔ حالانکہ شیعہ انہیں اپنا پہلا امام مانتے ہیں۔ شیعہ اور سنی دونوں حضرت علی کا احترام کرتے ہیں، لیکن طریقہ تھوڑا مختلف ہے۔ ساتھ ہی دونوں طبقے کے مسلمان اس بات پر بھی رضامند ہیں کہ وہ ایک بہترین حکمراں اور ایک سچے مسلمان تھے۔خلیفہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد سنہ 656ء میں انہیں خلیفہ منتخب کیا تھا۔ حضرت علی نے اپنے دور خلافت میں بہت سی خانہ جنگیاں دیکھیں اور سنہ 661ء میں جب وہ جامع مسجد کوفہ میں نماز ادا کر رہے تھے، عبدالرحمن بن ملجم نامی ایک خارجی نے ان پر حملہ کر دیا اور وہ دو دنوں بعد شہید ہوگئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: