متھرا تشدد کی نہیں ہوگی سی بی آئی جانچ ، ہائی کورٹ نے مسترد کی درخواست

لکھنؤ: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے متھرا تشدد کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ عرضی مسترد کر دی ہے۔

Jun 13, 2016 09:49 PM IST | Updated on: Jun 13, 2016 09:49 PM IST
متھرا تشدد کی نہیں ہوگی سی بی آئی جانچ ، ہائی کورٹ نے مسترد کی درخواست

لکھنؤ: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے متھرا تشدد کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ عرضی مسترد کر دی ہے۔ جسٹس شری نارائن شکلا اور جسٹس سنيت کمار کی بنچ نے اعظم گڑھ ضلع بی جے پی یونٹ کے ترجمان آئی پی سنگھ کی جانب سے دائر وہ مفاد عامہ عرضی مسترد کر دی، جس میں انہوں نے عدالت سے متھرا تشدد کیس کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔

عرضی گزار کے وکیل اشوک پانڈے کے مطابق آئی پی سنگھ نے عدالت سے متھرا تشدد کیس کی سی بی آئی یا کسی خاص تفتیشی ٹیم سے جانچ اور اس کیس میں ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی بلبل گوديال نے عرضی کو سیاست سے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اس پر سوال اٹھائے اور اس کی مخالفت کی ۔

گوديال نے عدالت میں دلیل پیش کی کہ پولیس نے عدالت کے حکم کی تعمیل میں متھرا کے جواهرباغ کو غیر قانونی قبضہ داروں سے خالی کرانے کی کارروائی کی اور ریاستی حکومت کی جانب سے کیس کی تحقیقات کے لئے ایک عدالتی انکوائری کمیشن کی تشکیل کی جاچکی ہے۔ سماعت کے وقت مرکزی حکومت کے وکیل بھی موجود تھے ۔ عدالت نے سماعت کے بعد درخواست مسترد کر دی۔

واضح رہے کہ دو جون کو عدالت کے حکم پر متھرا کے جواهرباغ کو غیر قانونی قبضہ داروں سے آزاد کرانے کے لئے ہوئی کارروائی میں دو پولیس افسران سمیت 29 افراد کی موت ہو گئی تھی۔

Loading...

Loading...