ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

گوالیار میں محکمہ صحت کی بڑی لا پرواہی، 13مریضوں کی ولدیت جاوید خان درج کردی گئی

والیار میں کورونا مریضوں کے ٹیسٹ رپورٹ میں یہ بڑی لا پرواہی سامنے آنے کے بعد جب مریضوں اور ان کے عزیزوں نے احتجاج کیا تو گوالیار سی ایم ایچ او ڈاکٹر وی کے گپتا نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئےجانچ کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

  • Share this:
گوالیار میں محکمہ صحت کی بڑی لا پرواہی، 13مریضوں کی ولدیت جاوید خان درج کردی گئی
گوالیار میں محکمہ صحت کی بڑی لا پرواہی، 13مریضوں کی ولدیت جاوید خان درج کردی گئی

گوالیار: مدھیہ پردیش کورونا کے بڑھتے معاملوں نے جہاں حکومت اور محکمہ صحت کی نیند اڑی رکھی ہے۔ وہیں گوالیار محکمہ صحت کی بڑی لا پرواہی سے کورونا مریضوں کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ درجن سے زیادہ کورونا مریضوں کی جب رپورٹ سامنے آئی تو اس میں محکمہ صحت نے ان کی ولدیت کو ہی بدل دیا تھا۔ گوالیار گجرا راجہ میڈیکل کالج کی کورونا رپورٹ میں یہ معاملے سامنے آیا ہے۔ گوالیار میں کورونا مریضوں کے ٹیسٹ رپورٹ میں یہ بڑی لا پرواہی سامنے آنے کے بعد جب مریضوں اور ان کے عزیزوں نے احتجاج کیا تو گوالیار سی ایم ایچ او ڈاکٹر وی کے گپتا نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئےجانچ کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ واضح رہے کہ گوالیار گجراراجہ میڈیکل کالج کے ذریعہ جب 18 کورونا مریضوں کی جانچ رپورٹ جاری کی تو 18 میں سے 13 مریضوں کی ولدیت کے سامنے ایک ہی نام جاوید خان لکھا ہوا تھا۔ گوالیار سی ایم ایچ او ڈاکٹر وی کے گپتا کہتے ہیں کہ یہ بڑی لا پرواہی ہے۔ اس کی جانچ کے احکام جاری کردیئے گئے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ یہ لا پرواہی میڈیکل جانچ کی سطح پر ہوئی ہے یا جو لوگ کورونا مریضوں کی سیمپل لینے کے لئے گئے تھے، ان سے یہ بڑی چوک ہوئی ہے۔

وہیں مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے پورے صوبہ میں ایک دن کے لئے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔  کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ شیوراج سنگھ حکومت نے اقتدار میں بنے رہنے کے پیش نظر صوبہ میں کورونا کو بے قابو کر دیا ہے۔ ایم پی میں وکاس کا انکاؤنٹر کردیا گیا۔ امن کا ٹاپو صوبہ میں جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے اور کورونا اتنا بڑھ گیا کہ پورے صوبہ میں مکمل لاک ڈاؤن اور راجدھانی بھوپال میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ ابراہیم گنج اور اس سے متصل علاقوں میں ایک ہفتے کا مکمل لاک ڈاؤن ہے اور یہ سب بتاتا ہے کہ کورونا کنٹرول سے باہر ہے۔


گوالیار کے گجراراجہ میڈیکل کالج کے ذریعہ جب 18 کورونا مریضوں کی جانچ رپورٹ جاری کی تو 18 میں سے 13 مریضوں کی ولدیت کے سامنے ایک ہی نام جاوید خان لکھا ہوا تھا۔
گوالیار کے گجراراجہ میڈیکل کالج کے ذریعہ جب 18 کورونا مریضوں کی جانچ رپورٹ جاری کی تو 18 میں سے 13 مریضوں کی ولدیت کے سامنے ایک ہی نام جاوید خان لکھا ہوا تھا۔


مدھیہ پردیش کے وزیر صحت ڈاکٹر نروم مشرا کہتے ہیں کہ صوبہ میں کورونا قابو میں ہے۔ صوبہ میں کورونا ریکوری ریٹ بڑھ کر 76 فیصد ہوگیا ہے۔ کورونا کے خاتمہ کے لئے پورے صوبہ میں گھر گھر محکمہ صحت کی کل کورونا کے نام سے مہم جاری ہے۔ ہمارے یہاں کورونا سرحد پار سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے  بڑھ رہا ہے۔ اس کے لئے بھی ایڈوائزری بنائی جا چکی ہے۔ کانگریس کے پاس کوئی کام نہیں ہے، وہ الزام لگا کر اپنا وقت گزار رہی ہے۔
بھوپال سینٹرل سے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ کورونا کے معاملوں پر سرکار صرف سیاست کر رہی ہے۔ بھوپال میں کورونا مریض واجد علی کی موت ہوتی ہے اور ان کی نعش اسپتال پارکنگ میں ملتی ہے اور گوالیار میں درجن سے زیادہ مسلم مریضوں کی ولدیت بدل دی جاتی ہے۔ سب مریضوں کے نام کے آگے ایک ہی نام جاوید خان لکھ دیا جاتا ہے اور جانچ کے نام پر بس رسم ادائیگی کی جاتی ہے۔ بھوپال میں واجد علی کے معاملے میں ابھی تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی گوالیار میں بھی یہی کچھ ہوگا۔ ہرجگہ حقائق کو چھپانے اور اس پر پردہ ڈالنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو کورونا پر قابو پانا ہے تو مفاد پرستی کی سیاست چھوڑ کر کام کرنا چاہئے۔ تبھی اس وبائی بیماری پر ہم قابو پا سکیں گے۔

بھوپال سینٹرل سے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ کورونا کے معاملوں پر سرکار صرف سیاست کر رہی ہے۔
بھوپال سینٹرل سے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ کورونا کے معاملوں پر سرکار صرف سیاست کر رہی ہے۔


وہیں مدھیہ پردیش  کے وزیر وشواس سارنگ کورونا معاملے میں کانگریس لیڈران کے بیان بے تکا قرار دے رہے ہیں۔ وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ بھوپال میں کورونا مریض واجد علی کی ڈیڈ باڈی اسپتال پارکنگ میں پائے جانے کا معاملہ ہو یا گوالیار میں محکمہ صحت کی لاپرواہی کا معاملہ ہو دونوں میں جانچ کے احکام جا ری کئے جا چکے ہیں۔ جانچ رپورٹ آنے کے بعد کاروائی ہوگی۔ اگر کانگریس کی کمل ناتھ حکومت نے وقت رہتے کورونا کی وبائی بیماری کی جانب دیکھا ہوتا تو آج مدھیہ پردیش میں کورونا کو لےکرحالات اتنے تشویشناک نہیں ہوتے۔ آج شیوراج سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور عوام کو راحت مل رہی ہے تو کانگریس کے لوگوں کے پیٹ میں درد ہو رہا ہے اور وہ اپنے بیانوں سے صوبہ کی عوام کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ واضح رہےکہ مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر سترہ ہزار چار سو بیالیس (17442) ہو گئی ہے۔ کورونا کے 649 مریضوں کی اب تک موت ہوچکی ہے جبکہ بارہ ہزار چارسو ستاسی (12487) مریض صحتیاب ہوکر اسپتال سے اپنےگھر جا چکے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 12, 2020 01:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading