உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Covid-19 : کئی شہروں میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا پیک گزرا، ماہرین نے بتائی یہ وجہ

    Covid-19 : کئی شہروں میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا پیک گزرا، ماہرین نے بتائی یہ وجہ

    Covid-19 : کئی شہروں میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا پیک گزرا، ماہرین نے بتائی یہ وجہ

    Corona Third wave peak likely crossed by some cities: ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں کمی کے آثار بتاتے ہیں کہ ملک کے بڑے شہروں میں کووڈ-19 کی تیسری لہر کا پیک گزر چکا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان میں کورونا وبا  (Corona Pandemic) کو 2 سال ہونے والے ہیں۔ پچھلے دو سالوں میں اس وبا نے ملک اور دنیا میں بڑی تباہی مچائی ہے۔ اس دوران کورونا وائرس (Coronavirus) کے کئی ویریئنٹس دیکھے گئے ۔ گزشتہ سال نومبر میں منظر عام پر آنے والے اومیکران ویریئنٹ (Omicron Variant) کی وجہ سے ملک میں کورونا وبا کی تیسری لہر (Corona Third Wave) آئی ہے ، جس کی وجہ سے ملک بھر میں کووڈ-19 انفیکشن کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ حالانکہ راحت کی بات یہ ہے کہ اس دوران اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا اور کورونا سے ہونے والی اموات کنٹرول میں رہیں۔ اومیکران سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگ گھر پر ہی پیراسیٹامول کی گولیاں کھا کر ٹھیک ہو گئے ۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں کمی کے آثار بتاتے ہیں کہ ملک کے بڑے شہروں میں کووڈ-19 کی تیسری لہر کا پیک گزر چکا ہے ۔

      کورونا کے معاملات میں کمی کے بعد مہاراشٹر حکومت نے اس ہفتہ سے پرائمری اسکول کو دوبارہ کھولنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وہیں کرناٹک میں ویک اینڈ کرفیو کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ تاہم اومیکران ویریئنٹ کی وجہ سے ملک میں کورونا کی تیسری لہر اتنی جان لیوا نہیں تھی ، جتنی کہ پہلی اور دوسری لہر تھی ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ کورونا ویکسینیشن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔

      گزشتہ سال اپریل-مئی میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران اس وبا سے نمٹنے کے لئے تیاریوں کی شدید کمی کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا تھا ۔ ویکسینیشن کی سست رفتاری اور ویکسین کی کمی کے باعث کئی لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ ہندوستان میں کورونا ویکسینیشن کا آغاز گزشتہ سال 16 جنوری سے ہوا تھا۔

      ویکسین کی تیاری، سپلائی اور ویکسین سے متعلق پالیسیوں میں خامیوں کی وجہ سے تیز رفتار سے ویکسینیشن نہیں ہو سکی ۔ مئی 2021 کے پہلے ہفتے تک ملک میں ویکسین کے لیے اہل آبادی کے صرف 3 فیصد لوگوں کا ہی مکمل ویکسینیشن ہوسکا اور 14 فیصد نے ویکسین کی پہلی ڈور لی ۔ دوسری لہر میں کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرینٹ نے بڑی تباہی مچائی تھی ۔

      تاہم اب مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں سے ملک میں کووڈ-19 ویکسینیشن کے حوالے سے بہتر کام ہوا ہے اور ویکسین کے لئے اہل آبادی کے 95 فیصد سے زیادہ کو کورونا کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔ ان میں سے مکمل ویکسینیشن کرانے والوں کی شرح 70 فیصد ہے۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

      کئی سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ سے لڑنے میں کورونا ویکسین نے ڈھال کی طرح کام کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپر امیونٹی یا ہائبرڈ امیونٹی کی وجہ سے لوگ متاثر ہونے کے باوجود سنگین بیماریوں کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد بریک تھرو انفیکشن یعنی دوبارہ انفیکشن ہونے کی وجہ سے امیونٹی کا لیول مزید بہتر ہوا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: