ہوم » نیوز » وطن نامہ

کام کی بات : میں 28 سال کی ہوں اور ابھی تک ورجن ہوں، مجھے ڈر ہے کہ۔۔۔۔۔

میں نے آج تک کسی مرد کے ساتھ جسمانی تعلقات نہیں بنائے لیکن میں کبھی ۔ کبھی مشت زنی کرتی ہوں۔

  • News18.com
  • Last Updated: Jul 26, 2018 09:59 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کام کی بات : میں 28 سال کی ہوں اور ابھی تک ورجن ہوں، مجھے ڈر ہے کہ۔۔۔۔۔
میں نے آج تک کسی مرد کے ساتھ جسمانی تعلقات نہیں بنائے لیکن میں کبھی ۔ کبھی مشت زنی کرتی ہوں۔

 سوال : میری عمر 28 سال ہے اور میری شادی نہیں ہوئی ہے۔ میرا کوئی بوائے فرینڈ بھی نہیں ہے۔ میں نے آج تک کسی مرد کے ساتھ جسمانی تعلقات نہیں بنائے لیکن میں کبھی ۔ کبھی مشت زنی کرتی ہوں۔ اس میں سکون تو ملتا ہے لیکن اس سے  ڈر اور جرم کا احساس بھی  ہوتا  ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ مشت زنی کرنے والی لڑکیاں ماں نہیں بن پاتیں۔ مجھے یہی سکھایا گیا ہے کہ لڑکیاں یہ سب نہیں کرتیں لڑکوں کیلئے تو سب جائز ہے۔ میں کیا کروں ، کیا لڑکیوں کو مشت زنی کرنی چاہئے؟ کیا میں سچ مچ کبھی ماں نہیں بن پاؤں گی؟


آپ کے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا۔ ایک لڑکے اور لڑکی میں ان کی جسمانی ساخت میں کیا فرق ہوتا ہے؟ جیسے ایک لڑکے کو غصہ آتا ہے ،لڑکی کو بھی آتا ہے،جیسے لڑکے کو خوشی ہوتی ہے لڑکیوں کو بھی ہوتی ہے۔ دونوں کا کھانا، سانس لینا ،بخار، پیٹ درد سب ایک جیسا ہوتا ہے۔


اگر باقی سب کچھ ایک جیسا ہے تو پھر جنسی خواہشات میں فرق کیسے ہو سکتا ہے۔ جس طرح جوانی تک پہنچنے کے بعد ایک لڑکے کے جسم میں ہارمونل تبدیل ہوتے ہیں، اسی طرح لڑکی کے جسم میں بھی ہارمونل تبدیل ہوتے ہیں۔


لڑکوں کی آواز بھاری ہونے لگتی ہے ان کے داڑھی ۔مونچھ ، بغلوں  اور پرائیویٹ حصے میں بال نکلتے ہیں۔ اسی طرح لڑکیوں میں بھی پیریڈس (حیض)  کی شروعات ہوتی ہے، ان کے بریسٹ نکلتے ہیں۔ یہی وقت ہے جب لڑکیوں میں بھی لڑکوں کی طرح اپنے اور مخالف جسم کے حصے کو لیکر تمام سوال ، تجسس پیدا ہوتے ہیں ۔ اس تجسس میں، دونوں اپنی جسمانی ساخت سے خواہشات تک کی تلاش کرتے ہیں ۔

مشت زنی اطمینان بخش اور فطری عمل ہے۔ یہ ایک لڑکے اور لڑکی ، دونوں کیلئے بہت فطری ہے۔ لڑکیاں بھی مشت زنی کرتی ہیں لیکن چونکہ لڑکیوں کی پرورش زیادہ تنگ اور بندھی ہوئی ہوتی ہے۔انہیں بچپن سے ہی تمام قاعدے قانون کے دائرے میں باندھ دیاجاتا ہے۔ اس لئے وہ ان موضوعات پر کبھی کھل کر بات نہیں کرتیں اور کئی مرتبہ تو خود سے بھی اسے قبول کرنے میں شرم محسوس کرتی ہیں۔

سماجی بندھنوں کی وجہ سے لڑکیوں میں جسم کو لیکر ڈر اور شرم، جھجک زیادہ ہوتی ہے لیکن اسی ڈر اور پس وپیش کوتوڑنے کی ضرورت ہے۔آپ کا یہ ڈر آپ کی پرورش کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ آپ کو بچپن سے یہ سکھایا گیا ہے کہ لڑکیوں میں اس طرح کی خواہشات نہیں ہونی چاہئے۔کیونکہ لڑکیوں کی خواہشات کو ہمیشہ جرم سے جوڑکر دیکھا جاتا ہے۔

جیسے لڑکے اپنی خواہشات کو تسلی ،سکون دینے کیلئے مشت زنی کرتے ہیں۔ ویسے ہی لڑکیاں بھی اپنی جسنسی خواہشات کو پر سکون بنانے کیلئے مشت زنی کا سہارا لیتی ہیں۔ آج کے زمانے میں لڑکیاں بھی اپنے کریئر پردھیان دے رہی ہیں اور شادی کی عمر بڑھ کر 28 سے 34 سال تک ہو گئی ہے۔ ایسے میں جنسی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔ ساتھ ہی وقت بدل رہا ہے۔ اپنی جنسی خواہشات کو لیکر خواتین پہلے سے زیادہ تیز ہیں۔ یہ سب سے محفوظ طریقہ بھی ہے۔ اس سے لڑکیاں کم عمر میں ہی حاملہ ،ایچ آئی وی ایڈس وغیرہ جنسی بیماریوں سے بھی بچی رہتی ہیں۔

جہاں تک آپ کے اس ڈر کا سوال ہے کہ مشت زنی کرنے کی وجہ سے آپ کبھی ماں نہیں بن پائیں گی تو اس بات کو گانٹھ باندھ کر رکھ لیں کہ یہ  بالکل فضول کی بات ہے۔ اس کے پیچھے کوئی حقیقت یا اس بات کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔۔مشت زنی کرنے سے حاملہ ہونے کی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
۔(ڈاکٹر پارس شاہ ساندھیہ ملٹی اسپشلیٹی ہاسپیٹل احمد آباد ، گجرات میں چیف کنسلٹنٹ سیکسولاجسٹ ہیں)۔



اگر آپ کے دل میں کوئی بھی سوال یا تجسس ہے تو آپ اس ای میل پر ہمیں میل بھیج سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ آپ کے سبھی سوالوں کا جواب دیں گے۔

Ask.life@nw18.com

First published: Jul 26, 2018 08:57 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading