ہوم » نیوز » Explained

کیا ہے بلیک اور وہائٹ فنگس ، جانئے اس کی علامات اور علاج سے وابستہ ہر بات

Black Fungus: میوکورمائیکوسس یا بلیک فنگس کا انفیکشن ایک فنگس سے ہوتا ہے ، جو انفیکٹیڈ سیل کلسٹر میں کالے رنگ کا داغ بناتا ہے ۔

  • Share this:
کیا ہے بلیک اور وہائٹ فنگس ، جانئے اس کی علامات اور علاج سے وابستہ ہر بات
کیا ہے بلیک اور وہائٹ فنگس ، جانئے اس کی علامات اور علاج سے وابستہ ہر بات

گزشتہ ایک سال سے ہمارا ملک کورونا وائرس سے لڑ رہا ہے اور اس سال فنگس بھی اس میں شامل ہوگیا ہے اور عام لوگوں کی مشکلات اس نے زیادہ بڑھا دی ہے ۔ بلیک اور وہائٹ فنگس آج کل ہر جگہ خبروں کی سرخیوں میں چھایا ہوا ہے اور ہم سبھی لوگ اس سے خوفزدہ ہیں ۔ اس فنگس کے بارے میں ہمارے ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ کے جواب ہم نیچے دے رہے ہیں ۔


بلیک فنگس اور وہائٹ فنگس کیا ہے ؟


میوکورمائیکوسس یا بلیک فنگس کا انفیکشن ایک فنگس سے ہوتا ہے ، جو انفیکٹیڈ سیل کلسٹر میں کالے رنگ کا داغ بناتا ہے ۔


کینڈیڈا یا وہائٹ فنگس انفیکشن ایک ایسے فنگس سے ہوتا ہے جو انفیکٹیڈ سیل کلسٹر میں سفید رنگ کا داغ بناتا ہے ۔

یہ انفیکشن کیسے پھیلتا ہے ؟

یہ انفیکشن ہوا میں موجود فنگس کے بیضوں کے سانس کے ذریعہ یا ادخال کرکے جسم کے اندر پہنچنے سے ہوتا ہے ۔ کئی مرتبہ یہ جسم کی جلد پر ہوئے زخم یا کسی ذہنی صدمہ کی وجہ سے بھی جسم میں پہنچتا ہے ۔

یہ کہاں سے آتا ہے ؟

دیگر مائیکروبز جیسے بیکٹریا یا وائرس کی طرح فنگس بھی ماحول میں موجود  ہوتا ہے ۔ یہ عام طور پر زمین ، ہوا اور انسان کے ناک اور اس کے بلغم میں موجود ہوتا ہے ۔

کیا یہ ہوا سے پھیلتا ہے ؟

ہاں ، چونکہ اس کے بیضے ہوا میں موجود ہوتے ہیں ، اس لئے اس کو پھیلنے سے روکنا ناممکن سا ہے ۔

کیا فنگس لوگوں سے لوگوں میں پھیلتا ہے ؟

نہیں ، فنگس سے ہونے والا انفیکشن متاثرہ شخص کے رابطے میں آنے سے نہیں ہوتا ہے ۔

کیا یہ انفیکشن ہم سبھی کو ہوسکتا ہے ؟

نہیں ، چونکہ مائیکروبز جیسے بیکٹریا ، وائرس یا فنگس ہوا میں موجود ہوتے ہیں ، اس لئے انہیں ہم اپنے جسم میں جانے سے نہیں روک سکتے ، مگر ہر شخص اس سے متاثر نہیں ہوتا ہے ۔ یہ اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ ہم کتنا زیادہ محفوظ ہیں ۔ مطلب ہمارا امیون سسٹم کتنا زیادہ مضبوط ہے کہ وہ فنگس کو ہمارے جسم میں پھیلنے سے روک سکے ۔ صحت مند جسم مائیکروبز کے جسم میں پہنچتے ہی اس سے لڑائی شروع کردیتا ہے اور اس کو جسم میں آگے نہیں بڑھنے دیتا ہے ۔ اس طرح کسی شخص کا امیون سسٹم مضبوط ہے تو اس کو یہ انفیکشن نہیں ہوگا ۔

کس کو ہوسکتا ہے انفیکشن ؟

جس شخص کے جسم کا امیون سسٹم کمزور ہے ، اس کو انفیکشن کا خطرہ ہے ۔ ایسے لوگ جو 60 سال سے زیادہ عمر کے ہیں ، یا جن کو ڈائبٹیز کی سنگین شکایت ہے جو کہ قابو میں نہیں آرہا ، گردے کی بیماری ہے ، لیور کی بیماری ہے ، سی او پی ڈی ، دمہ ، ٹی بی ہے یا جو لوگ امیون سسٹم کو دبانے کی تھیریپی جیسے اسٹیرائیڈ لے رہے ہیں ، جن کو کینسر جیسی بیماری ہے ، یا جن کے اعضا کی پیوندکاری ہوئی ہے ، جو کافی وقت سے اینٹی بایوٹک لے رہے ہیں ، کافی وقت سے اسپتال میں ہیں ، جس میں تغذیہ کی کمی ہے ، تمبا کا استعمال کرتے ہیں ، بیڑی سگریٹ پیتے ہیں یا شراب پیتے ہیں ، ایسے لوگ اس سے متاثر ہوسکتے ہیں ۔

کیا کووڈ سے متاثر ہر مریض بلیک اور وہائٹ فنگس سے متاثر ہوسکتا ہے ؟

نہیں ، بلیک اور وہائٹ فنگس ایک بہت ہی نایاب انفیکشن ہے اور کووڈ سے متاثر سبھی مریضوں کو یہ نہیں ہوتا ۔

کووڈ مریضوں میں یہ انفیکشن تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے ؟

الف ۔ کووڈ کی وجہ سے لوگوں کے جسم کا امیون سسٹم کمزور ہوجاتا ہے ، اس لئے بیکٹریا اور فنگس کو ان کے جسم میں پہنچنے کا موقع مل جاتا ہے ۔

ب ۔ کورونا کے علاج میں اسٹیرائیڈ جیسی دواوں کے استعمال کی وجہ سے جسم میں لنفوسائٹس کی تعداد کم ہوجاتی ہے جو کہ ایک طرح کی سفید خون کا خلیہ ہوتا ہے جو بیکٹریا ، وائرس اور فنگس کے خلاف ہمارے جسم کا تحفظ کرتا ہے ۔ یہ دوائیں مریض کے امیون سسٹم کو بڑھاتی ہیں ، جس کی وجہ سے ان کی جان بچ جاتی ہے ۔ لنفوسائٹس کی تعداد میں کمی آنے سے کووڈ سے متاثر مریضوں میں موقع دیکھ کر فنگس انفیکشن بڑھ جاتا ہے ۔ جس مریض کا امیون سسٹم ٹھیک سے کام نہیں کررہا ہے ، اس کو میوکورمائیکوسس اور کینڈیڈا دونوں ہی انفیکش ہوسکتے ہیں ۔

ج ۔ انٹی بایوٹک دوائیں ، جن کا استعمال بیکٹریا کے ثانوی انفیکشن کو روکنے کیلئے ہوتا ہے ، یہ اس مفید بیکٹریا کے فروغ کو بھی روک دیتا ہے ، جو فنگس سے ہمارے جسم کو بچا سکتا ہے ۔

د ۔ زنک کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے کیونکہ یہ فنگل انفیکشن کو بڑھانے کا کام کرتا ہے ۔

ہ ۔ جسم میں صنعتی آکسیجن کا طویل عرصہ تک استعمال بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے ۔

و ۔ بھاپ کے استعمال سے منہ اور ناک میں فنگس کے فروغ کیلئے موزوں ماحول تیار ہوتا ہے ۔

کیا ان دواوں کو روک دینا چاہئے ؟

نہیں ، یہ دوائیں کووڈ سے جان بچانے کیلئے ضروری ہیں ۔

ان دواوں کو لیتے ہوئے فنگس کے انفیکشن کو کیسے روک سکتے ہیں؟

دوائیں صرف آر ایم پی ڈاکٹر کے مشورہ اور سخت نگرانی میں ہی لینی چاہئے ۔ آر ایم پی ڈاکٹر اس بات کو جانتا ہے کہ مریض کو کون سی دوا کب اور کتنی مقدار میں دینی چاہئے اور کتنی مرتبہ دینی چاہئے ۔ اگر مریض خود ان دواوں کو لیتا ہے یا کسی کے مشورہ سے اور اگر اس کا غلط استعمال ہوتا ہے تو وہ مریض متاثر ہوسکتا ہے اور اسے دوسری مشکلات بھی ہوسکتی ہیں ۔

کیا کاڑھا جیسی کوئی نیچورل چیزیں بھی اس کیلئے ذمہ دار ہیں ؟

کوئی بھی چیز اگر ضرورت سے زیادہ مقدار میں لی جاتی ہے تو اس سے نقصان ہوتا ہے ۔ کاڑھا میں بھی بیکٹریا کو مارنے اور اسٹیرائیڈ کوالیٹی والی چیزیں ملی ہوتی ہیں ، اس لئے انگریزی دواوں کے ساتھ یہ بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ ایسی کئی قدرتی چیزوں میں زنک اور آئرن کی بہتات ہوتی ہے جو فنگس کے فروغ کو بڑھاتے ہیں ۔

کیا کووڈ کے بغیر بھی یہ انفیکشن ہوسکتا ہے ؟

ہاں ! یہ انفیکشن ایسے کسی بھی شخص کو ہوسکتا ہے جس کے جسم کا امیون سسٹم کمزور ہے ۔ بھلے ہی اس کو کووڈ ہوا ہو یا نہیں ۔

کیا بلیک فنگس انفیکشن جان لیوا ہے ؟

ہاں ! میوکورمائیکوسس یا بلیک فنگس ایک نایاب لیکن جان لیوا بیماری ہے ۔

بلیک فنگس کی بیماری کی کیا علامات ہیں ؟

اس نے جسم کس علاقہ کو متاثر کیا ہے ، اس بنیاد پر اس کے نشان اور علامات الگ الگ ہوتی ہیں ۔

رائنو اوربیٹل سیریبرل میوکورمائیکوسس (Rhino orbital cerebral Mucormycosis) : یہ انفیکشن اس وقت ہوتا ہے جب شخص فنگس کے بیکٹریا کو سانس کے ذریعہ سے جسم کے اندر لیتا ہے ۔ یہ ناک ، آنکھ کے گھیرے / آنکھ کے گڑھے ، اورل کیویٹی اور یہاں تک کہ دماغ کو بھی متاثر کردیتا ہے ۔ انفیکشن کی وجہ سردرد ، ناک کا جام ہونا ، ناک بہنا ( ہرے رنگ کا بلغم آنا ) سائنس میں درد ، ناک سے خون نکلنا ، چہرے پر سوجن ، چہرے پر کچھ بھی محسوس نہیں ہونا اور جلد کا رنگ بدلنا شامل ہے ۔

پلمنیری میوکورمائیکوسس (Pulmonary Mucormycosis) : یہ تب ہوتا ہے جب اس فنگس کے بیکٹریا کو سانس کے سہارے اندر لے لیا گیا ہے اور وہ نظام تنفس میں پہنچ گیا ہے ۔ یہ پھیپھڑے کو متاثر کرتا ہے ۔ اس کی وجہ سے بخار آسکتا ہے ، سینے میں درد ہوسکتا ہے ، بلغم ہوسکتا ہے اور بلغم میں خون نکل سکتا ہے ۔

یہ فنگس آنت ، جلد اور دیگر اعضا کو بھی متاثر کرسکتا ہے ۔ مگر ان میں سب سے زیادہ عام رائنو سیریربرل میوکورمائیکوسس ہے ۔

بلیک فنگس ہوگیا ہے ،  یہ کیسے پتہ چلتا ہے ؟

کلینیکل علامات سے اس کے بارے میں شک پیدا ہوتا ہے اور بعد میں ایم آر آئی جیسی جانچ بھی کی جاتی ہے ۔ اس انفیکشن کی پختہ جانکاری کیلئے مریض کی بایوپسی کرنی ہوتی ہے ۔ اس میں مریض کے جسم سے ٹشو کا ایک حصہ کاٹا جاتا ہے اور اس کو مائیکرو اسکوپ میں دیکھا جاتا ہے ۔ تاکہ بلیک فنگس کا اس میں پتہ لگایا جاسکے ۔

کیا اس کا علاج ہے ؟

ہاں ! اگر اس کا پتہ جلدی چل جائے تو اس کا علاج ہے اور امفوٹیریسن اور پوسیکونازول جیسی اینٹی فنگل دوا کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ کچھ مریضوں میں سرجری کرنے کی بھی نوت آتی ہے ، جس میں متاثرہ چیزوں کو نکال دیا جاتا ہے ۔

کیا وہائٹ فنگس کا انفیکشن جان لیوا ہے ؟

نہیں! کینڈیڈیئسس یا وہائٹ فنگس جان لیوا نہیں ہے ۔

کیا وہائٹ فنگس کے انفیکشن کا علاج ہے ؟

ہاں ! کینڈیڈیئس یا وہائٹ فنگس کا علاج ہے اور اس کیلئے دستیاب دوائیں مہنگی بھی نہیں ہوتیں ۔

اس سے اپنا بچاو کیسے کریں ؟

الف ۔ صاف ماسک پہنیں اور اس سے سب سے زیادہ موثر بچاو ہے ۔ کیونکہ اس سے آپ فنگس کو اپنے جسم میں ناک اور منہ کے راستے جانے سے روک پائیں گے ۔ اپنے ماسک کو بار بار صاف کریں اور انہیں تبدیل کریں ۔

ب ۔ اپنے زخم ، چمڑے کے کٹ جانے یا چھل جانے کی جگہ کو فورا پانی سے صاف کریں ۔

ج ۔ کووڈ کا علاج کسی آر ایم پی ڈاکٹر سے ہی کرائیں ۔ خود کوئی دوا نہ لیں ۔ نیم حکیم کے چکر میں نہ پڑیں ۔ طویل عرصہ تک بھاپ نہ لیں یا کاڑھا نہ پئیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 12, 2021 11:43 PM IST