ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ میں کانٹریکٹ ہیلتھ ملازمین کی ہڑتال سے ہیلتھ سسٹم بری طرح متاثر

کورونا جانچ اور سیمپل کلکشن نہیں ہونے سے لوگ پریشان رہے۔ سب سے زیادہ پریشانی ان حاملہ خواتین کو ہو رہی ہے، جن کی زچگی کی تاریخ قریب ہے، لیکن کورونا جانچ رپورٹ نہیں ہونے سے انہیں اسپتال میں داخلہ نہیں مل پا رہا ہے۔

  • Share this:
جھارکھنڈ میں کانٹریکٹ ہیلتھ ملازمین کی ہڑتال سے ہیلتھ سسٹم بری طرح متاثر
جھارکھنڈ میں کانٹریکٹ ہیلتھ ملازمین کی ہڑتال سے ہیلتھ سسٹم بری طرح متاثر

رانچی: جھارکھنڈ میں 10  ہزار سے زائد این آر ایچ ایم ملازمین غیر معینہ مدت ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ کانٹریکٹ صحت ملازمین اور نرسوں کی ہڑتال کا پورے ریاست میں وسیع پیمانے پر اثر دیکھا جا رہا ہے۔ کورونا جانچ اور سیمپل کلکشن نہیں ہونے سے لوگ پریشان رہے۔ سب سے زیادہ پریشانی ان حاملہ خواتین کو ہو رہی ہے، جن کی زچگی کی تاریخ قریب ہے، لیکن کورونا جانچ رپورٹ نہیں ہونے سے انہیں اسپتال میں داخلہ نہیں مل پا رہا ہے۔


رانچی کے دیپا ٹولی سے صدر اسپتال پہنچی حاملہ شبنم خاتون اور تماڑ نامی مقام سے پہنچی امبیکا دیوی جیسی سینکڑوں خواتین کا ڈاکٹروں کے ذریعہ دیا ہوا ڈلیوری ڈیٹ قریب ہے اور انہیں کورونا ٹسٹ رپورٹ کے ساتھ بلایا گیا۔ سینکڑوں حاملہ خواتین صدر اسپتال ضرور پہنچیں، لیکن ہڑتال کی وجہ سے ان کا سیمپل اب تک نہیں لیا جا سکا۔


سب سے زیادہ پریشانی ان حاملہ خواتین کو ہو رہی ہے، جن کی زچگی کی تاریخ قریب ہے۔
سب سے زیادہ پریشانی ان حاملہ خواتین کو ہو رہی ہے، جن کی زچگی کی تاریخ قریب ہے۔


آج ریاست بھر میں ہیلتھ سسٹم بیپٹری دکھی۔ وہیں صدر اسپتال کے کورونا کنٹرول روم بند کرکے ہڑتالی ہیلتھ ملازمین نے خوب نعرے بازی کی۔ ان لوگوں نے ریاستی حکومت پر جانب دارانہ رویہ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ١٣ سالوں سے وہ لوگ کانٹریکٹ پر اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں، لیکن حکومت انہیں نہ تو مستقل ملازمت دے رہی ہے اور نہ ہی تنخواہ میں اضافہ کر رہی ہے۔ اس بار فیصلہ کن تحریک کی وارننگ دیتے ہوئے پارا ڈاکٹر ایسوسی ایشن ‌‌‌کے نائب جنرل سکریٹری رانا چندن سنگھ اور کانٹریکٹ نرسنگ ایسوسی ایشن کی رکن سمن کیرکٹہ نے کہا کہ کورونا وبا کےماحول میں ریاستی حکومت ان کے حقوق کی اندیکھی کررہی ہے۔ اس لئے ان کے مطالبات پورے ہونے تک ہڑتال جاری رہے گا۔ کنٹریکٹ ہیلتھ ملازمین اور نرسوں کی ہڑتال کی وجہ سے آج سی ایم او اور دیگر اہم مقامات پرکورونا جانچ کے لئے ٹیم نہیں جا سکی۔

کورونا ٹسٹ کے لئے سینکڑوں حاملہ خواتین صدر اسپتال ضرور پہنچیں، لیکن ہڑتال کی وجہ سے ان کا سیمپل نہیں لیا جا سکا۔
کورونا ٹسٹ کے لئے سینکڑوں حاملہ خواتین صدر اسپتال ضرور پہنچیں، لیکن ہڑتال کی وجہ سے ان کا سیمپل نہیں لیا جا سکا۔


صدر اسپتال پہنچے ایگزیکیٹیو مجسٹریٹ راکیش رنجن نے مظاہرین کو سمجھانے اورکام پرلوٹنےکی اپیل کی، لیکن وہ نہیں مانے۔ وہیں سول سرجن کی اپیل کو بھی انہوں نے ٹھکرا دیا۔ سول سرجن وجے بہاری پرساد نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ مستقل ملازمین کے تعاون سے خدمات کو معمول پر لایا جائے۔ کورونا وبا کے ماحول میں کانٹریکٹ ملازمین اور نرسوں کی ہڑتال سے مریضوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہےکہ حکومت جلد از جلد راستہ نکالے تاکہ لوگوں کی پریشانیاں دور ہو سکے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 06, 2020 04:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading