بچہ دانی ہٹوانے پر خواتین کے دماغ ہو سکتا ہے ایسا خطرناک اثر، ریسرچ میں ہوا انکشاف

میڈیکل جنرل اینڈو کرائینولوجی میں چھپی اس اسٹڈی کے مطابق جو خواتین کسی بھی وجہ سے بچہ دانی ہٹواتی ہیں۔ ان میں ڈیمینشیا یعنی بھولنے کی بیماری کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔

Apr 18, 2019 11:24 AM IST | Updated on: Apr 18, 2019 11:38 AM IST
بچہ  دانی  ہٹوانے  پر خواتین  کے  دماغ ہو سکتا ہے ایسا خطرناک اثر، ریسرچ  میں ہوا انکشاف

علامتی تصویر

بچہ  دانی  یا  یوٹرس  کا  کام  صرف  بچے  کو  جنم  دینا  ہی  نہیں  ہے۔  اس  کا  تعلق  خواتین  کی  یاد داشت  سے  بھی  ہے۔  حال  ہی  میں  ایری  جونا  اسٹیٹ  یونیورسٹی  میں  ہوئی ایک تحقیق نے اس پر مہر لگادی۔  میڈیکل جنرل اینڈو کرائینولوجی میں چھپی اس اسٹڈی کے مطابق جو خواتین کسی بھی وجہ سے بچہ دانی ہٹواتی ہیں۔ ان میں ڈیمینشیا یعنی بھولنے کی بیماری کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ اس استڈی میں ہندستانی خواتین پر بھی خطرہ منڈرا رہا ہے کیونکہ یہاں ہسٹیریکٹ ٹامی یعنی بچہ دانی ہٹانے کے آپریشن کرونے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اے ایس یو میں بی ہیویر نیورو سائنس آف میموری اینڈ ایجنگ لیب کےتحت ایک اسٹڈی کی گئی۔ جس میں انکشاف ہوا کہ جیسے ہی خواتین یوٹرس ہٹانے کی سرجری کراتی ہیں۔ یہ ان میں مینیوپاز لا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرجری کے فورا بعد کی کم عمر میں ہی خواتین بھولنے لگتی ہیں۔ اسے برین فوگ بھی کہتے ہیں جو کہ یوٹرس سے نکنے والے ہارمیونس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس پر پہلے بھی کافی تحقیق ہو چکی ہیں لیکن حالیہ ریسرچ  نے یوٹرس۔ برین کے تعلق کو پکا کردیا ہے۔ سائنسدانوں نے پایا کہ بچہ دانی ہتاتے ہی شارٹ۔ٹرم میموری ہو جاتی ہے اور سمجھ سمجھ پر بھی اثر پڑتا ہے۔

تحقیق میں شاملل اے ایس ہو کے سینئر سائنس کے ڈاکٹر حیدر نیلسن کہتے ہیں کہ ہم جاننا چاہتے تھے کہ ہوٹرس کا دماغ سے تعلق ہے یا نہیں۔ اس کیلئے لیب میں 16 مادہ چوہوں پر استعمال کیا گیا۔ ان میں سے آدھے کی بچے دانی ہٹائی گئی جبکہ آدھوں پر نقلی سرجری کی گئی۔ سرجری کے کچھ ہی دنوں بعد جن چوہوں کی بچہ دانی ہٹائی گئی تھی ان میں یاد داشت اور سمجھ کی کمی نظر آئی۔

Loading...

Loading...