ایودھیا تنازعہ معاملہ: 1885کا مقدمہ اور حالیہ مقدمہ ایک جیسا: مسلم فریق

مسلم فریق کے وکیل شیکھر نافڈے نے دلیل دی کہ 1885 کا مقدمہ اور حالیہ مقدمہ ایک جیسا ہی ہے۔ دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ 1885 میں متنازعہ مقام کے ایک جگہ پر دعوی کیا گیا تھا اور اب پورے حصے پر دعوی کیا گیا ہے۔

Sep 30, 2019 04:44 PM IST | Updated on: Sep 30, 2019 04:46 PM IST
ایودھیا تنازعہ معاملہ: 1885کا مقدمہ اور حالیہ مقدمہ ایک جیسا: مسلم فریق

سپریم کورٹ: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ میں ایودھیا تنازعہ کی سماعت کے 34ویں دن آج مسلم فریق نے کہا کہ 1885کا مقدمہ اور حالیہ مقدمہ ایک جیسا ہے اور دونوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ 1885 میں متنازع مقام کے ایک جگہ پر دعوی کیا گیا تھا جب کہ اب پورے حصے پر دعو ی کیا گیا ہے۔

مسلم فریق کے وکیل شیکھر نافڈے نے دلیل دی کہ 1885 کا مقدمہ اور حالیہ مقدمہ ایک جیسا ہی ہے۔ دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ 1885 میں متنازعہ مقام کے ایک جگہ پر دعوی کیا گیا تھا اور اب پورے حصے پر دعوی کیا گیا ہے۔ اب ہندو اپنے دعوے کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعزیرات ہند میں درج ریس جیوڈیکاتا کے تحت اسی تنازع کو ہندو فریق دوبارہ نہیں اٹھا سکتے۔ جیوڈیکاتا ضابطہ (ایک ہی طرح کے موضوع پر دو بار مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا) کو الہ آباد ہائی کورٹ نے نظر انداز کردیا تھا۔

اس دوران اس معاملے میں ثالثی کی امیدوں کو آج اس وقت دھچکا لگا جب رام للا وراجمان نے کہا کہ اسے عدالت کے فیصلے پر ہی بھروسہ ہے۔

Loading...

Loading...