ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

راجیہ سبھا میں شہریت ترمیمی بل 2019 پر تیکھی بحث ، پڑھیں کس لیڈر نے کیا کہا ؟

راجیہ سبھا میں اس بل پر گرماگرم بحث ہو رہی ہے۔ بحث میں شرکت کرتے ہوئے ٹی ایم سی لیڈر ڈریک او براین نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل واقعی ملک کو تقسیم کرنے والا ہے ۔

  • Share this:
راجیہ سبھا میں شہریت ترمیمی بل 2019 پر تیکھی بحث ، پڑھیں کس لیڈر نے کیا کہا ؟
ٹی ایم سی لیڈر دڑیک او براین راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے ۔ فوٹو : نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

شہریت ترمیمی بل 2019 لوک سبھا میں منظور ہوچکا ہے ۔ بدھ کو اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش کردیا گیا ۔ راجیہ سبھا میں بل کو پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اس بل سے کروڑوں لوگوں کو کافی امیدیں ہیں ۔ شاہ نے کہا یہ یہ بل پناہ گزینوں کو حق اور مساوات فراہم کرنے والا بل ہے ۔ ہم مساوات کا حق دینے کیلئے یہ بل لے کر آئے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ امت شاہ نے ایک مرتبہ پھر دعوی کیا کہ یہ بل مسلم طبقہ کے خلاف نہیں ہے ، اس لئے ملک کے مسلمانوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔


راجیہ سبھا میں اس بل پر گرماگرم بحث ہو رہی ہے۔ بحث میں شرکت کرتے ہوئے ٹی ایم سی لیڈر ڈریک او براین نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل واقعی ملک کو تقسیم کرنے والا ہے ۔ جناح کی قبر پر سنہرے حروف میں شہریت ترمیمی بل لکھا جائے گا ۔ براین نے کہا کہ یہ بل غیر آئینی ہے ، اس کے خلاف جن آندولن ہوگا ۔ اس بل کی بنیاد جھوٹ ، فریب اور دھوکہ پر ہے ۔


سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن جاوید علی خان نے کہا کہ ہماری حکومت اس شہریت ترمیمی بل اور این آر سی کے ذریعہ جناح کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ یاد کیجئے ، 1949 میں سردار پٹیل نے کہا تھا کہ ہم ہندوستان میں حقیقت میں سیکولر جمہوریت کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔


جے ڈی یو رکن آر سی پی سنگھ نے کہا کہ ہم بل کی حمایت کرتے ہیں ۔ یہ بل بہت واضح ہے ، یہ ہمارے تین پڑوسی ممالک میں استحصال کے شکار اقلیتوں کو شہریت دیتا ہے ، لیکن یہاں ہمارے ہندوستانی مسلمان بھائیوں کو لے کر بحث ہورہی ہے ۔



شہریت ترمیمی بل کوئز میں حصہ لیں ۔


لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل ( سی اے بی ) پیر کو منظور ہوگیا ۔ اس کوئز میں حصہ لے کر اس متنازع بل کے بارے میں اپنی معلومات کا اندازہ لگائیں ۔




شہریت ترمیمی بل کے تحت تبت کے پناہ گزینوں کوملے گی شہریت ؟






 کیا، احمدیہ پناہ گزینوں جوپاکستان میں مذہبی ظلم و ستم کا شکارہوکربھاگ کرآئے انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت ملے گی؟







کیا، بنگلہ دیش ہندومہاجرجو 2015 میں غیرقانونی طورپرہندوستان میں داخل ہوا ہے اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟





بنگلہ دیش کے ایک بدھسٹ مہاجرجن کا نام آسام کے نیشنل رجسٹرآف سیٹیزنس سے نکال دیاگیاہے اور اس کے خلاف فارین ٹرابیونل میں کیس زیرالتواء ہے تو کیا اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟




میگھالیہ آئین کے چھٹویں شیڈول کے تحت آتاہے اور یہ شہریت ترمیمی بل کے حدود سے باہر ہے تو کیا شیلانگ کے پولیس بازار میں رہنے والے ہندوبنگلہ دیش مہاجر،شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کےلیے درخواست داخل کرسکتاہے؟





کیا تریپورہ میں قیام پذیر بنگالی ہندو مہاجرین کو شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل سکتی ہے ؟





ہندوستان منتقل ہونے والے ہندو، سکھ، بدھیسٹ، جین، پارسی اور عیسائی مہاجرین جوپاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش میں مذہبی ظلم وستم شکار ہوئے ہیں، انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت خود بخود شہریت مل جائیگی ؟




کوئی بھی ہندو مہاجر شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کا دعویٰ کرسکتاہے؟






بنگلہ دیش کے چکما، ہاجنگ کے پناہ گزین جو اروناچل پریش میں قیام پذیز ہیں اور انہیں اب تک شہریت نہیں ملی ہے تو کیا انہیں شہریت ترمیم بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟






کیا سری لنگا سے آنے والے ہندو تامل مہاجرین شہریت ترمیم بل کے تحت ہندوستانی شہریت حاصل کرسکتے ہیں؟





آسامی میں بات کرنے والے ہندو، جو جوہرہاٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں مناسب دستاویزات کی عدم موجودگی کے سبب نیشنل رجسٹرآف سیٹزنس میں شامل نہیں کیاگیاہے؟ کیا وہ شہریت ترمیمی بل کے شہریت کے لیے درخواست داخل کرسکتے ہیں؟ 








 

 


تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے راجیہ سبھا رکن ڈاکٹر کیشو راو نے کہا کہ یہ بل ہندوستان کے تصور کو چیلنج کرتا ہے اور بل کو واپس لیا جانا چاہئے ۔ اے آئی ڈی ایم کے کے رکن ایس آر بال سبرامنیم نے کہا کہ اس بل پر ہماری کچھ تشویشات ہیں ۔ حالانکہ ہم اس بل کی حمایت کررہے ہیں ۔

وہیں راجیہ سبھا میں نامزد رکن سوپن داس گپتا نے کہا کہ سبھی کو پناہ گزینوں اور دراندازوں میں فرق کرنا ہوگا ۔ صرف افواہ پھیلانا ٹھیک نہیں ہوگا ۔ یہ بل کچھ غلط نہیں کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین پر عمل کرتا ہے ۔ یہ بنگلہ دیش سے آئے بنگالی ہندووں کو ان کا حق دیتا ہے ۔

ڈی ایم کے رکن ٹی شیوا نے کہا کہ اگر یہ بل پاس ہوا تو ہمارے آئین اور سیکولرازم پر بڑا حملہ ہوگا ۔ بی جے پی کو کسی خاص طبقہ کو تقسیم کرنے کیلئے نہیں ، بلکہ ملک کے سبھی شہریوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے عوامی مینڈیٹ ملا ہے ۔ بوڈولینڈ پیپلس فرنٹ کے بشوجیت دیماری نے کہا کہ شمال مشرق کے لوگوں کو اس بل کو لے کر خدشہ ہے ، اس لئے وہاں احتجاج ہو رہا ہے ۔ باہری لوگوں کی وجہ سے وہاں مقامی لوگ حاشیے پر چلے گئے تھے ۔ باہر کے لوگ پناہ گزیں کے طور پر آئے تھے ، انہیں اگر شہریت مل گئی تو وہاں کیا ہوگا ۔
First published: Dec 11, 2019 03:13 PM IST