உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پنجاب کابینہ میں داغی چہرے نہیں چاہتی کانگریس اعلیٰ قیادت، سروے رپورٹ کی بنیاد پر ملے گا وزیر کا عہدہ

    پنجاب کابینہ میں داغی چہرے نہیں چاہتی کانگریس اعلیٰ قیادت، سروے رپورٹ کی بنیاد پر ملے گا وزیر کا عہدہ

    پنجاب کابینہ میں داغی چہرے نہیں چاہتی کانگریس اعلیٰ قیادت، سروے رپورٹ کی بنیاد پر ملے گا وزیر کا عہدہ

    Punjab Congress: پنجاب کے 117 اراکین اسمبلی والے ایوان میں کابینہ میں وزیر اعلیٰ سمیت کل 18 وزرا ہوسکتے ہیں۔ کابینہ توسیع میں تاخیر ہونے سے پارٹی کے لیڈران بے چین ہو رہے ہیں۔ کئی لیڈروں نے کہا کہ انہیں اب تک ناموں کا اعلان کردینا چاہئے تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      چنڈی گڑھ: پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی (Chief Minister Charanjit Singh Channi) کی کابینہ میں مقبول لیڈروں کو شامل کرنے کے لئے کانگریس ہائی کمان سابق وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ (Amarinder Singh) کے کابینہ کے سبھی وزرا کے سروے کو دھیان میں رکھ رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کے سبب کابینہ کی تشکیل میں تھوڑی تاخیر ہوسکتی ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، جن کانگریس اراکین اسمبلی کو کابینہ میں شامل کیا جانا ہے، پارٹی نے ابھی کے ناموں کو حتمی شکل نہیں دیا ہے۔ یہاں تک کہ چرنجیت سنگھ چنی، ان کے دو نائب وزرائے اعلیٰ اور پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ امبیکا سونی (Ambika Soni) اور جنرل سکریٹری ہریش راوت (Harish Rawat) سے دہلی میں دو الگ الگ میٹنگ میں ملاقات کی ہے۔ معاملے کی جانکاری رکھنے والے ایک ذرائع نے بتایا کہ ہائی کمان نے پہلے ہی سبھی اراکین اسمبلی کا سروے کرا لیا تھا۔ وہ اب یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صرف انہیں اراکین اسمبلی کو کابینہ میں شامل کیا جائے جو مقبول ہیں اور داغدار نہیں ہیں۔

      اقتدار مخالف لہر کا سامنا نہیں کرنا چاہتی کانگریس

      ذرائع نے کہا کہ کانگریس میں ایک رائے یہ بھی تھی کہ آئندہ انتخابات کو لے کر کیپٹن امریندر سنگھ کابینہ میں بیشتر وزرا کو پھر سے کابینہ میں شامل کیا جانا چاہئے، لیکن ہائی کمان یہ بھی چاہتا ہے کہ کابینہ میں ایسا کوئی بھی شخص نہ ہو جس پر بدعنوانی کے الزامات ہوں۔ ہائی کمان چاہتا ہے کہ سبھی وزرا مقبول ہوں اور الیکشن میں اقتدار مخالف لہر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

      چرنجیت سنگھ چنی، ان کے دو نائب وزرائے اعلیٰ اور پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ امبیکا سونی (Ambika Soni) اور جنرل سکریٹری ہریش راوت (Harish Rawat) سے دہلی میں دو الگ الگ میٹنگ میں ملاقات کی ہے۔فائل فوٹو
      چرنجیت سنگھ چنی، ان کے دو نائب وزرائے اعلیٰ اور پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ امبیکا سونی (Ambika Soni) اور جنرل سکریٹری ہریش راوت (Harish Rawat) سے دہلی میں دو الگ الگ میٹنگ میں ملاقات کی ہے۔فائل فوٹو


       

      کابینہ کے بارے میں راج بھون کو 24 گھنٹے میں کرنا ہوگا مطلع

      ریاست میں تبدیلی کے بعد جب زیر التوا مشق کے بارے میں پوچھے جانے پر ریاست کے انچارج ہریش راوت نے کہا کہ ہم بہت جلد پنجاب کی نئی کابینہ کا فیصلہ کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر راہل گاندھی بدھ کو فہرست کو ہری جھنڈی دے دیتے ہیں تو جمعرات سے پہلے وزرا حلف نہیں لے پائیں گے۔ ایک ذرائع نے کہا کہ راج بھون کم از کم 24 گھنٹے سے پہلے کی اطلاع چاہتا ہے کیونکہ اگر 15 وزرا حلف لیتے ہیں تو انہیں کم از کم 150 مہمانوں کا انتظام کرنا ہوگا۔ 117 اراکین اسمبلی والے ایوان میں کابینہ میں وزیر اعلیٰ سمیت کل 18 وزرا ہوسکتے ہیں۔ کابینہ توسیع میں تاخیر ہونے سے پارٹی کے لیڈران بے چین ہو رہے ہیں۔ کئی لیڈروں نے کہا کہ انہیں اب تک ناموں کا اعلان کردینا چاہئے تھا۔

      دراصل پارٹی کابینی وزرا کے ناموں کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہے۔ امرگڑھ کے رکن اسمبلی سرجیت دھیمان نے منگل کو ایک الٹی میٹم دیا کہ اگر پارٹی کابینہ میں کم از کم دو پسماندہ طبقات کے لیڈروں کا نام شامل نہیں کرتی ہے تو ہم اسمبلی سے استعفیٰ دے دیں گے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: