உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حجاب پر پابندی کا معاملہ: نیوز 18 اردو کی خبر کے بعد حکومت نے جانچ کے لئے جاری کئے احکام

    حجاب پر پابندی معاملے میں نیوز 18 اردو کی خبر کے بعد حکومت نے جانچ کے لئے جاری کئے احکام

    حجاب پر پابندی معاملے میں نیوز 18 اردو کی خبر کے بعد حکومت نے جانچ کے لئے جاری کئے احکام

    : مدھیہ پردیش کے دتیا کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں حکومت کے موقف کے برعکس حجاب کو ممنوع قرار دیئے جانے پر نیوز ۱۸ اردو کی خبر کو مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے دتیا کلکٹر کو جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش کے دتیا کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں حکومت کے موقف کے برعکس حجاب کو ممنوع قرار دیئے جانے پر نیوز ۱۸ اردو کی خبرکو مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے دتیا کلکٹر کو جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کے پاس حجاب پر پابندی کو لے کر کوئی معاملہ زیر غور نہیں ہے۔ دتیا کالج کے پرنسپل نے کن حالات میں ایسے احکامات جاری کئے ہیں، اس کی جانچ کو لے کر دتیا کلکٹرکو کہا گیا ہے۔
    واضح رہے کہ دتیا کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں منعقدہ اسکالرشپ کیمپ میں جب دو مسلم طالبہ حجاب میں فارم داخل کرنے کے لئے گئیں تو وہاں پر بجرنگ دل اور درگا واہنی کارکنان کے ِذریعہ نہ صرف نعرہ لگاتے ہوئے احتجاج کیا گیا بلکہ کالج انتظامیہ سے حجاب میں آنے والی طالبات کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ہندو تنظیمیوں کے احتجاج کے بعد کالج پرنسپل ڈی آر راہل نے کالج میں حجاب کو ممنوع قرار دیئے جانے کا نوٹس چسپاں کروادیا تھا۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش میں حجاب پر پابندی کو لے کر وزیر تعلیم اندر سنگھ پرمار نے پہلے بیان دیا تھا، لیکن نیوز ایٹین کی خبرکے بعد نہ صرف وزیر تعلیم نے اپنا بیان واپس لیا تھا بلکہ وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے حجاب پر پابندی کے بیان کو خارج کیا تھا اور وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے اس معاملہ میں وزیر تعلیم کی سرزنش کی تھی۔ حکومت کے موقف کے برعکس  پہلے ستنا کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں حجاب میں امتحان دینے گئی مسلم طالبات کو نہ صرف روکا گیا بلکہ رخسانہ بیگم سے معافی نامہ لکھوانے کے بعد اسے امتحان دینے کی اجازت دی گئی تھی، اسی طرح دتیا ڈگری کالج میں حکومت کے موقف کے برعکس حجاب کو ممنوع قرار دیئے جانے کا نوٹس چسپاں کر دیا گیا ہے۔
    جب اس معاملہ میں نیوز اایٹین اردو نے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا سے بات کی تو انہوں نے کہا ہے کہ قومی یکجہتی اور آپسی اتحاد کی جیتی جاگتی مثال ہمارا دتیا ہے، میں نے ویڈیو دیکھا ہے۔ کالج  کے پرنسپل نے کن حالات اور کس وجہ سے اس طرح کا حکم جاری کیا ہے، اس کے لئے میں نے کلکٹر دتیا کو فوری طور پر ہدایت دی ہے کہ اس کی جانچ کریں اور میں یہاں پر آپ کے توسط سے ایک بار پھر واضخ کردینا چاہتا ہوں کہ حجاب پر پابندی کو لے کر سرکار کے سامنے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ اس لئے اس کو لے کرنہ تو کوئی بھرم پھیلائے اور نہ ہی ایسے احکام جاری کرے جس سے بھرم پیدا ہو۔ وہیں مائناریٹیز یونائیٹیڈ آرگنائزیشن مدھیہ پردیش کے سکریٹری عبد النفیس نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ جن کالجوں نے حجاب کے معاملہ میں حکومت کے موقف کے برعکس کاروائی کی ہے ان پر کاروائی کب ہوگی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: