உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka Hijab Row: اسکول کالج میں حجاب پہن کر نہیں آسکیں گی لڑکیاں، کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کی جانیں بڑی باتیں

    Karnataka HC on Hijab raw: حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسلام میں حجاب پہننا ضروری مذہبی عمل نہیں ہے، اس لئے اسکول کالجوں میں حجاب پہننے کو بنیادی حق نہیں مانا جائے گا۔

    Karnataka HC on Hijab raw: حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسلام میں حجاب پہننا ضروری مذہبی عمل نہیں ہے، اس لئے اسکول کالجوں میں حجاب پہننے کو بنیادی حق نہیں مانا جائے گا۔

    Karnataka HC on Hijab raw: حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسلام میں حجاب پہننا ضروری مذہبی عمل نہیں ہے، اس لئے اسکول کالجوں میں حجاب پہننے کو بنیادی حق نہیں مانا جائے گا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) نے ان سبھی عرضیوں کو خارج کردیا ہے، جن میں حجاب کو مذہبی آزادی کا حوالہ دے کر اسکول کالجوں میں پہننے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس جے ایم قاضی کی بینچ نے کہا کہ حجاب مذہب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ اس لئے یہ عرضی منسوخ کردی جاتی ہے۔

      حجاب آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ایک بنیادی حق محفوظ ہے کہ نہیں اس بات پر کرناٹک ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنا تھا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے واضح حکم دیا کہ اسلام میں حجاب لازمی حصہ نہیں ہے، اس لئے اسکول میں اگر کوئی ڈریس کوڈ ہے تو بنیادی حق کا حوالہ دے کر کوئی اپنی مرضی کا ڈریس نہیں پہن سکتا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Karnataka Hijab Row: کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب پر پابندی رکھا برقرار

      ہائی کورٹ کے فیصلے کی بڑی باتیں

      عدالت نے کہا کہ ہم نے حجاب موضوع کو لے کر دونوں فریق کی باتیں سنیں۔ ایک فریق کا سوال تھا کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کا حق آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت محفوظ ہے۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ اسکول کا یونیفارم آئینی طور پر رکاوٹ نہیں پیدا کرتا ہے کیونکہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

      کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا، 5 فروری کو کرناٹک کے سرکاری حکم کو غلط قرار دینے کے لئے کوئی معاملہ نہیں بنتا ہے۔ اس لئے اسکول میں ڈریس کوڈ نافذ کرنا آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: