உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حجاب کیس: سپریم کورٹ نے کہا : تعلیمی اداروں کو ڈریس مقرر کرنے کا اختیار، 19 ستمبر کو اگلی سماعت

    حجاب کیس: سپریم کورٹ نے کہا : تعلیمی اداروں کو ڈریس مقرر کرنے کا اختیار، 19 ستمبر کو اگلی سماعت

    حجاب کیس: سپریم کورٹ نے کہا : تعلیمی اداروں کو ڈریس مقرر کرنے کا اختیار، 19 ستمبر کو اگلی سماعت

    Hijab Case : تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی سے متعلق معاملات میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے مطابق تعلیمی اداروں کو ڈریس مقرر کرنے کا اختیار ہے ، حجاب الگ معاملہ ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی سے متعلق معاملات میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے مطابق تعلیمی اداروں کو ڈریس مقرر کرنے کا اختیار ہے ، حجاب الگ معاملہ ہے ۔ معاملہ کی اگلی سماعت پیر (19 ستمبر) کو ہوگی ۔ اس سے پہلے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کو لے کر سامنے آئے تنازع اور اب کورٹ میں جاری حجاب کیس کو لے کر سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ یہ معاملہ آئینی بینچ کو بھیجا جانا چاہئے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: دلیر مہندی کو ہائی کورٹ سے بڑی راحت، سزا سسپینڈ


      سبل نے کہا تھا کہ یہ مطالبہ اس لئے اہم ہے، کیونکہ یہ اختیار کا معاملہ ہے کہ میں کیا پہنوں یا نہ پہنوں ۔ وہیں حجاب معاملہ میں طالبہ کی طرف سے پیش وکیل کالن گونزالویز نے کہا کہ جب سکھوں کو کرپان رکھنے کی آزادی ہے، پگڑی پہننے کو منظوری دی گئی ہے اور جب کرپان اور پگڑی کو آئینی تحفظ دیا جاسکتا ہے تو پھر حجاب میں کیا پریشانی ہے ؟۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جموں۔کشمیر میں ایک اور دردناک حادثہ، راجوری میں بس کھائی میں گری، 5کی موت، 15 زخمی


      کپل سبل نے کہا کہ قانون اظہار رائے کی آزادی پر تب تک پابندی نہیں لگا سکتا جب تک کہ وہ امن عاملہ یا اخلاقیات اور شائستگی کے خلاف نہ ہو ۔ کرناٹک میں ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، جس سے ریاست کیلئے آئین کے خلاف مداخلت کرنے کی صورت پیدا ہوئی ہو ۔

      وہیں طالبہ کی جانب سے پیش وکیل کالن نے کہا کہ جب پہلے بھی دیگر کو تحفظ دیا گیا ہے تو اب اسی تحفظ کو حجاب تک کیوں نہیں بڑھایا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئیں ایک زندہ دستاویز ہے ۔ یہ وقت اور حالات کے حساب سے ترمیم ہوتا ہے ۔ وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ جب اسکولوں میں پگڑی، تلک اور کراس کو بین نہیں کیا گیا تو پھر حجاب پر پابندی کیوں؟ یہ صرف ایک مذب کو نشانہ بنانے کیلئے کیا گیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: