உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حجاب تنازعہ: ملالہ یوسف زئی پر بی جے پی لیڈر سی ٹی روی کی تنقید، کہا- ہوتی کون ہیں بولنے والی

    حجاب تنازعہ: ملالہ یوسف زئی پر بی جے پی لیڈر سی ٹی روی کی تنقید

    حجاب تنازعہ: ملالہ یوسف زئی پر بی جے پی لیڈر سی ٹی روی کی تنقید

    کرناٹک حجاب تنازعہ پر پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی (Malala Yousafzai) کے اظہار خیال کرنے کے بعد ملک کے بی جے پی لیڈروں نے اب اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کرناٹک کے سینئر بی جے پی لیڈر سی ٹی روی (C T Ravi) نے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی ہندوستان کے اندرونی معاملے میں بولنے والی ہوتی کون ہیں؟

    • Share this:
      نئی دہلی: کرناٹک حجاب تنازعہ اب گہراتا جا رہا ہے۔ پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی (Malala Yousafzai) کے اس معاملے میں اظہار خیال کرنے کے بعد ملک کے بی جے پی لیڈروں نے اب اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کرناٹک کے عظیم بی جے پی لیڈر سی ٹی روی (C T Ravi) نے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی ہندوستان کے اندرونی معاملے میں بولنے والی ہوتی کون ہیں؟ سی ٹی روی نے ملالہ پر طنز کستے ہوئے انہیں ملا کہہ کر مخاطب کیا ہے اور ملالہ یوسف زئی کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے، یہ ملا ہندوستان کے داخلی معاملوں میں دخل دینے والی ہوتی کون ہیں؟ کیا اسے اپنے برقعہ کے پیچھے نہیں چھپ جانا چاہئے؟

      اس سے قبل ملالہ یوسف زئی نے حجاب تنازعہ میں کودتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا، انہوں نے لکھا، لڑکیوں کو ان کے حجاب میں اسکول جانے سے منع کرنا خطرناک ہے۔ ہندوستانی لیڈروں کو مسلم خواتین کے حاشیے پر جانے کو روکنا چاہئے۔ ان کے اسی ٹوئٹ سے بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی بھڑک گئے۔ انہوں نے ملالہ یوسف زئی کو نصیحت دی کہ ہندوستان کے داخلی معاملے میں بولنے کا انہیں کوئی حق نہیں۔

      بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا- شریعہ چلانا ہے تو پاکستان جائیں

      اس معاملے کو لے کر بی جے پی کے بڑے لیڈر بھی فکر مند ہیں۔ کرناٹک میں میسور سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرتاپ سمہا نے اس سے قبل یہ کہہ کر طوفان کھڑا کردیا تھا، جسے شریعہ قانون پر چلنا ہے وہ پاکستان چلے جائیں۔ انہوں نے کہا، ’اگر آپ حجاب، برقعہ، روایتی مسلم پینٹ پہننا چاہتے ہیں، تو 1947 میں الگ ہوئے دوسرے ملک میں آپ کو چلا جانا چاہئے۔ کیونکہ اسے آپ نے ہی بنایا ہے، لیکن آپ نے اسی کو اپنا ملک منتخب کیا ہے تو تہذیب کا احترام آپ کو کرنا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا، ’سروستی، گنیش کی پوجا کرنے اور چوڑیاں اور سندور پہننے کے سوال اٹھانے والوں کے لئے کہنا چاہوں گا کہ یہ برطانیہ ہندوستان نہیں ہے۔ یہ ہندوستان ہے۔ اس سرزمین کی بنیادی بنیاد ہندو مذہب ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: