உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka Hijab Case: حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت جاری، مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے سے متعلق وکیل نے دی یہ دلیل

    حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت جاری

    حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت جاری

    کرناٹک میں چل رہے حجاب تنازعہ (Hijab Controversy) کو لے کر کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ ان عرضی میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے معاملے میں سماعت شروع کردی ہے۔

    • Share this:
      بنگلورو: کرناٹک میں چل رہے حجاب تنازعہ (Hijab Controversy) کو لے کر کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ ان عرضی میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے معاملے میں سماعت شروع کردی ہے۔  چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس جے ایم قاضی کی تین ججوں کی بینچ معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ وہیں آج سے کرناٹک میں اسکولوں کو پھر سے کھول دیا گیا ہے۔ اڈپی ضلع میں دفعہ 144 بھی نافذ کر دی گئی ہے۔ حالانکہ طالبات آج اسکول پہنچی ہیں۔

      سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے میڈیا سے خاص اپیل کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ میڈیا سے ہماری اپیل ہے کہ وہ زیادہ ذمہ دار بنیں۔ ہم میڈیا کے خلاف نہیں ہیں، ہماری واحد گزارش ذمہ دار ہونا ہے۔ وکیل سبھاش جھا کا کہنا ہے کہ ان کی گزارش ہے کہ سبھی فریق کو اپنے سبمیشن کو قانون کی کتاب میں محدود کرنا چاہئے اور فرقہ وارانہ رنگ نہیں دینا چاہئے۔ وہیں سینئر وکیل دیو دتہ کامت نے عرضی گزاروں کی دلیلوں کی شروعات کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا حکم قانون کی ضرورتوں کو پورا کئے بغیر استعمال کیا گیا ہے۔ یہ آرٹیکل 25 کے بنیادی حصے میں ہیں اور قانونی طور پر پائیدار نہیں ہیں۔

      عدالت نے وکیل سے پوچھا- پبلک آرڈر کیا ہے؟

      وہیں کرناٹک ہائی کورٹ نے عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل دیو دتہ کامت سے پوچھا کہ آرٹیکل 25 (مذہبی آزادی) کے تحت شہریوں کو ملے حقوق کیا مکمل حقوق ہیں۔ اس کا کوئی دائرہ ہے یا نہیں۔ عدالت نے دیودتہ کامت سے ’پبلک آڈر‘ کیا ہے، اس پر روشنی ڈالنے کے لئے کہا۔ وہیں، دیو دتہ کامت نے بتایا کہ پبلک آرڈر کیا ہے۔ حالانکہ عدالت نے دیو دتہ کامت سے کہا کہ وہ سیدھے اس موضوع پر آئیں کہ یہ عوامی نظام کا سوال ہے یا نہیں؟ عدالت نے کہا کہ ہم صرف یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا حکومت نے اپنے سرکاری احکامات کے ذریعہ آرٹیکل 25 کو منسوخ کردیا ہے؟

       

      سماعت کے دوران سینئر وکیل دیو دتہ کامت نے کرناٹک ہائی کورٹ کو واقف کرایا کہ حکومت کے حکم کا کہنا ہے کہ سر پر اسکارف پہننا آرٹیکل 25 سے محفوظ نہیں ہے۔ سرکاری حکم کہتا ہے کہ کالج وکاس سمیتی پر یہ طے کرنے کے لئے چھوڑ دینا چاہئے کہ یہ ڈریس کا حصہ ہوگا یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالج وکاس سمیتی کو یہ طے کرنے کی اجازت دینا کہ طلبا کو سرپر اسکارف پہننے کی اجازت دی جائے یا نہیں، پوری طرح سے غیر قانونی ہے۔ وکیل نے کہا کہ کیا ایک کالج وکاس سمیتی جس میں ایک رکن اسمبلی اور کچھ ماتحت شامل ہیں، بنیادی آزادی کا استعمال کرنے کا فیصلہ لے سکتے ہیں؟
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: