உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حجاب تنازعہ کے درمیان کرناٹک کی مسلم لیکچرر نے استعفیٰ دے دیا، مستعفی ٹیچر نے کہی یہ بڑی بات

    حجاب تنازعہ کے درمیان کرناٹک کی مسلم لیکچرر نے استعفیٰ دے دیا

    حجاب تنازعہ کے درمیان کرناٹک کی مسلم لیکچرر نے استعفیٰ دے دیا

    کرناٹک میں انگریزی کی ایک مسلم لیکچرر نے مبینہ طور پر حجاب ہٹانے کے لئے کہے جانے کے بعد ’عزت نفس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے جمعہ کے روز استعفیٰ دے دیا۔ حالانکہ کالج کے پرنسپل کے ٹی منجو ناتھ نے کہا ہے کہ نہ تو انہوں نے اور نہ ہی منیجمنٹ کی طرف سے کسی دیگر نے لیکچرر کو حجاب ہٹانے کے لئے کہا تھا۔

    • Share this:
      بنگلورو: کرناٹک میں انگریزی کی ایک مسلم لیکچرر نے مبینہ طور پر حجاب ہٹانے کے لئے کہے جانے کے بعد ’عزت نفس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے جمعہ کے روز استعفیٰ دے دیا۔ تماکورو میں جین پی یو کالج میں لیکچرر کے طور پر خدمات انجام دے رہی چاندنی نے کہا کہ انہوں نے کالج میں تقریباً تین سال کام کیا، لیکن پہلی بار انہیں حجاب ہٹانے کے لئے کہا گیا۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انگلش کی لیکچرر چاندنی نے کہا، ‘میں جین پی یو کالج میں گزشتہ تین سے کام کر رہی تھی۔ مجھے اب تک کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، لیکن کل پرنسپل نے کہا کہ میں پڑھانے کے دوران حجاب کوئی مذہبی علامت والے کپڑے نہیں پہن سکتی ہوں۔ نئے فیصلے سے میری ’عزت نفس‘ کو ٹھوس پہنچی، اس لئے میں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔



      حالانکہ کالج کے پرنسپل کے ٹی منجو ناتھ نے کہا ہے کہ نہ تو انہوں نے اور نہ ہی منیجمنٹ کی طرف سے کسی دیگر نے لیکچرر کو حجاب ہٹانے کے لئے کہا تھا۔ واضح رہے کہ حجاپ پر پابندی کے سبب کرناٹک کے اسکول اور کالج میں حال کے وقت میں کافی احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملے ہیں۔

      واضح رہے کہ حجاب تنازعہ کرناٹک میں مسلم طلبا کو تعلیمی اداروں میں حجاب پہن کر داخلہ ہونے سے روکنے کو لے کر شروع ہوا تھا۔ کرناٹک کے اڈپی ضلع کی چھ طالبات نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ بعد میں یہ لڑکیاں ہائی کورٹ میں گہار لگانے پہنچی تھیں، تبھی سے یہ معاملہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے فی الحال کوئی بھی مذہبی علامات پہن کر اسکول جانے پر عارضی روک لگا دی ہے۔ حجاب معاملے کو لے کر عدالت میں سماعت چل رہی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: