உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حجاب پر ہنگامے سے مسلم بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کی محنت پر پھر سکتا ہے پانی! جانیں کیسے

    حجاب پر ہنگامے سے مسلم بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کی محنت پر پھر سکتا ہے پانی!

    حجاب پر ہنگامے سے مسلم بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کی محنت پر پھر سکتا ہے پانی!

    Hijab Controversy: انڈین ایکسپریس نے نیشنل سیمپل سروے (National Sample Survey) کے 64ویں اور 75ویں راونڈ کے یونٹ لیول ڈیٹا کے ذریعہ بتایا ہے کہ 08-2007 میں اعلیٰ تعلیم میں مسلم لڑکیوں کی گراس اٹینڈنس ریشیو (gross attendance ratio -GAR) 6.7 فیصد تھی، جو 18-2017 میں بڑھ کر 13.5 ہوگئی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کرناٹک سے اٹھا حجاب تنازعہ (Karnataka Hijab Controversy) آج کل سرخیوں میں ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ حجاب پہن کر اسکول پہنچی لڑکیوں کو روکا جانا صحیح ہے یا غلط۔ معاملہ عدالت کی چوکھٹ تک پہنچ گیا ہے، لیکن ایک پہلو ہے، جس کی طرف بھی دھیان دیا جانا چاہئے اور یہ پہلو ہے تعلیم میں مسلم بچوں (muslim education) کی حصہ داری کا۔ کئی سرکاری سروے دکھاتے ہیں کہ کرناٹک ہی نہیں، پورے ملک میں پڑھائی کرنے والے مسلم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انڈین ایکسپریس نے نیشنل سیمپل سروے (این این ایس) کے 64ویں اور 75ویں راونڈ کے یونٹ لیول ڈیٹا کے ذریعہ بتایا ہے کہ 08-2007 میں اعلیٰ تعلیم میں مسلم لڑکیوں کی گراس اٹینڈنس ریشیو (gross attendance ratio -GAR) 6.7 فیصد تھی، جو 18-2017 میں بڑھ کر 13.5 ہوگئی۔

      یہ تجزیہ کرنے والے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف دلت اسٹڈیز کے خالد خان کے مطابق، یہ اضافہ کالج جانے والی 18 سال سے 23 کی مسلم لڑکیوں میں ہوا ہے۔ بے شک یہ مسلم آبادی کے لحاظ سے کم ہے، لیکن اس میں اضافہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اگر اعلیٰ تعلیم میں ہندو لڑکیوں کی حاضری کا تناسب دیکھیں تو یہ 08-2007 کے 13.4 فیصد سے بڑھ کر 18-2017 میں 24.3 فیصد ہوگیا۔ اگر کرناٹک کی بات کریں تو وہاں 08-2007 میں مسلم خواتین کا ہائر ایجوکیشن میں حاضری کا تناسب 08-2007 میں محض 1.1 فیصد تھا، جو 18-2017 میں بڑھ کر 15.8 فیصد تک پہنچ گیا۔

      یہ صورتحال صرف کالج جانے والے مسلم بچوں کا نہیں ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، اسکول لیول پر بھی فرق صاف نظر آیا ہے۔ پرائمری اور سیکنڈری تعلیم پر یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن (UDISE) کا نیشنل ڈیٹا اس کا گواہ ہے۔ اس کے مطابق، اپر پرائمری یعنی 5ویں سے 8ویں جماعت میں داخلہ لینے والی مسلم لڑکیوں کا فیصد 16-2015 میں 13.30 فیصد تھا جو بڑھ کر 14.54 ہوگیا۔ اگر کرناٹک پر نظر ڈالیں تو یہ تعداد 15.16 فیصد سے بڑھ کر 15.81 فیصد ہوگیا ہے۔

      کیا حجاب معاملے سے مسلم لڑکیوں کی تعلیم میں حصہ داری پر فرق پڑے گا؟ اس سوال پر خالد خان کہتے ہیں کہ اگر حجاب پہن کر آئیں لڑکیوں کوکالج میں روکا گیا تو یہ ان کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بہت سی لڑکیاں فیملی کے دباو میں حجاب پہنتی ہیں، ایسے میں اس کی اجازت دینے میں کیا برائی ہے۔

      حالانکہ پلاننگ کمیشن کے سابق سکریٹری این سی سکسینہ اسے الگ نظریے سے دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلم خواتین کو حجاب پہننے کا اخلاقی اور قانونی حق ہے، لیکن اسکول کالجوں میں اس پر زور دینے سے بھید بھاو کو ہی بڑھاوا ملے گا۔ مسلم بچوں کو بہتر تعلیم کی طرف لانے کے لئے کی گئی محنت پر پانی پھر سکتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: