உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Controversy: مظاہرین لڑکیوں کے والدین کا الزام، سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہی پرائیویٹ جانکاری

    حجاب تنازعہ: مظاہرین لڑکیوں کے والدین کا الزام، سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہی پرائیویٹ جانکاری

    حجاب تنازعہ: مظاہرین لڑکیوں کے والدین کا الزام، سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہی پرائیویٹ جانکاری

    حجاب معاملے کو لے کر جمعرات کو کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی تھی۔ اس دوران عدالت نے معاملہ زیر التوا رہنے تک کسی بھی مذہبی لباس نہ پہننے کی بات کہی تھی۔ ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر ہوئی تھی۔ حالانکہ جمعہ کو ایپیکس کورٹ نے عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    • Share this:
      بنگلورو: کرناٹک (Karnataka) کے اڈپی واقع ڈگری کالک میں حجاب پہننے کے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والی چھ مسلم لڑکیوں کے والدین نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ ان کی بیٹیوں کی پرائیویٹ جانکاری سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ سرپرستوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شرارتی عناصر اس جانکاری کا استعمال لڑکیوں کو دھمکانے کے لئے کرسکتے ہیں۔

      اڈپی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) این وشنو وردھن کو کی گئی شکایت میں سرپرستوں نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جو عوامی طور پر لڑکیوں کا موبائل فون نمبر سمیت پرائیویٹ جانکاری شیئر کر رہے ہیں۔ وشنو وردھن نے بتایا کہ لڑکیوں کے والدین نے معاملے میں تحریری شکایت کی ہے۔ ایس پی نے کہا کہ آن لائن منچ پر دستیاب ثبوت جمع کئے جا رہے ہیں اور جانکاری حاصل ہونے کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔

      عدالت میں ہوئی سماعت

      حجاب معاملے کو لے کر جمعرات کو کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی تھی۔ اس دوران عدالت نے معاملہ زیر التوا رہنے تک کسی بھی مذہبی کپڑے یا حجاب نہیں پہننے کی بات کہی تھی۔ ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر ہوئی تھی۔ حالانکہ، جمعہ کو ایپکس کورٹ نے عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ کرناٹک میں کیا ہو رہا ہے اور ہائی کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے وکیلوں سے کہا کہ اسے قومی سطح کا موضوع نہ بنائیں اور سپریم کورٹ صحیح وقت پر مداخلت کرے گا۔

      آئندہ ہفتے سے شروع ہوں گے ادارے

      حجاب تنازعہ کے درمیان ریاستی حکومت نے دسویں کے طلبا کے لئے کلاس آئندہ ہفتے سے شروع کرنے کا جمعرات کو فیصلہ کیا۔ دسویں تک کے طلبا کے لئے کلاسیز 14 فروری سے اس کے بعد پی جی کالج اور ڈگری کالجوں میں کلاس پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ پرائمری اور سیکنڈری تعلیم، اعلیٰ تعلیم کے محکموں اور سینئر افسران کے ساتھ وزیر اعلیٰ  بسو راج بومئی کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں لیا گیا۔ حجاب سے متعلق کچھ اسکولوں اور کالجوں میں کشیدگی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے منگل کو تین دن کی تعطیل کا اعلان کیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: