உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Controversy: طالبات نے ہائی کورٹ سے اسکولی یونیفارم سے ملتے جلتے رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت مانگی

    طالبات نے ہائی کورٹ سے اسکولی یونیفارم سے ملتے جلتے رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت مانگی

    طالبات نے ہائی کورٹ سے اسکولی یونیفارم سے ملتے جلتے رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت مانگی

    حجاب پہننے کے حق میں عرضی دائر کرنے والی طالبات نے کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) سے پیر کو گزارش کی ہے کہ انہیں اسکول یونیفارم کے رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت دی جائے۔

    • Share this:
      بنگلورو: حجاب پہننے کے حق میں عرضی دائر کرنے والی طالبات نے کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) سے پیر کو گزارش کی ہے کہ انہیں اسکول یونیفارم کے رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت دی جائے۔ امن، خوشحالی اور لا اینڈ آرڈر کو متاثر کرنے والا کوئی بھی کپڑا پہننے پر روک لگانے سے متعلق حکومت کے احکامات کو چیلنج دینے والی لڑکیوں نے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس جے ایم قاضی اور جسٹس کرشنا ایم دکشت کی مکمل بینچ کے سامنے یہ دلیل دی۔

      اڈپی کے سرکاری پری یونیورسٹی کالج کی ان لڑکیوں کی طرف سے پیش ہوئے وکیل دیو دتہ کامت نے بینچ سے کہا، ’میں نہ صرف سرکاری احکامات کو چیلنج دے رہا ہوں، بلکہ یونیفارم کے رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت دینے کے مثبت احکامات کے لئے بھی کر رہا ہوں‘۔ دیو دتہ کامت نے دعویٰ کیا کہ مرکزی یونیورسٹیوں میں مسلم طالبات کو اسکول یونیفارم کا حجاب پہننے کی اجازت دی جاتی ہے اور ایسا ہی یہاں بھی کیا جاسکتا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ حجاب پہننا ایک لازمی مذہبی عمل ہے اور اس کے استعمال پر روک لگانا آئین کے آرٹیکل 25 میں دیئے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ایک رکن اسمبلی کی موجودگی والی تعلیمی وکاس سمیتی (سی ڈی سی) کو یونیفارم کے تعین کے لیے مجاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پری یونیورسٹی کی دوسری سال کی طالبہ دو سال پہلے داخلہ لینے کے وقت سے حجاب پہنتی آرہی ہے۔

      وکیل دیو دتہ کامت نے کہا کہ ’حکومت کہتی ہے کہ حجاب پہننا پریشانی کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ دیگر طالبات بھی اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنا چاہتی ہیں‘۔ عدالت نے معاملے کی سماعت منگل کو جاری رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔

      کرناٹک میں پری یونیورسٹی کلاسیز اور ڈگری کالج 16 فروری سے کھلیں گے

      کرناٹک حکومت نے پیر کے روز فیصلہ کیا کہ حجاب تنازعہ کی وجہ سے بند پری یونیورسٹی کلاسیز اور ڈگری کالج 16 فروری سے دوبارہ کھولے جائیں گے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں لیا گیا، جس میں ریاست کے وزیر داخلہ اراگا گیانیندر، پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش، اعلیٰ تعلیم کے وزیر سی این اشوتھ نارائن اور حکومت کے سینئر افسر شامل ہوئے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: