உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہماچل پردیش کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہن کر آنے پر لگی پابندی، ڈریس کوڈ پر ہی ملے گا داخلہ، وزیر تعلیم نے کیا اعلان

    ہماچل پردیش کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہن کر آنے پر لگی پابندی

    ہماچل پردیش کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہن کر آنے پر لگی پابندی

    پورے ملک میں حجاب پر مچے ہنگامہ (Hijab Controversy) کے درمیان ہماچل پردیش (Himachal Pradesh) کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پوری طرح سے روک لگا دی گئی ہے۔ ہماچل پردیش کے تعلیمی اداروں میں طے ڈریس کوڈ پر ہی طالبات کو داخلہ ملے گا۔

    • Share this:
      شملہ: پورے ملک میں حجاب پر مچے ہنگامہ (Hijab Controversy) کے درمیان ہماچل پردیش (Himachal Pradesh) کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پوری طرح سے روک لگا دی گئی ہے۔ ہماچل پردیش کے تعلیمی اداروں میں طے ڈریس کوڈ پر ہی طالبات کو داخلہ ملے گا۔ ہماچل پردیش میں 17 فروری کو اسکول کھلنے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے ہماچل پردیش کے وزیر تعلیم گووند سنگھ ٹھاکر (Govind Singh Thakur) نے بڑا اعلان کیا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو مذہبی رنگ دینا غلط ہے۔ یہ موضوع نہیں ہونا چاہئے۔ حجاب پہن کر اسکول کالجوں میں آنا غلط ہے۔ تعلیمی اداروں میں معیار، ساکھ کو برقرار رہنا چاہئے۔ وزیر تعلیم گووند سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پہن کر آنے کی ضد کرنا غلط ہے۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈران ووٹ کی سیاست کر رہے ہیں اور سیکولرازم کے نام پر اس معاملے کی وضاحت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش میں اب 17 فروری سے سبھی تعلیمی ادارے کھلیں گے۔ کورونا انفیکشن سے بچاو کے لئے بنائے گئے ضوابط پر عمل کرنا لازمی کیا گیا ہے۔

      ہماچل پردیش میں 17 فروری سے کھلیں گے سبھی تعلیمی ادارے

      ہماچل پردیش میں حال ہی میں کووڈ-19 کی صورتحال میں سدھار آنے کے بعد ریاستی حکومت نے جمعرات سے سبھی تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک سرکاری ترجمان نے یہ جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ پیر کو وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کی صدارت میں ایک میٹنگ میں ریاستی کابینہ نے 17 فروری سے سبھی تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا۔ ترجمان کے مطابق، وبائی امراض کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ریاستی کابینہ نے سبھی جم خانوں اور سنیما گھروں کو بھی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے سبھی طرح کے لنگر لگانے کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ لیا ہے۔

      کیا ہے حجاب تنازعہ، جس پر مچا ہے ہنگامہ

      کرناٹک میں حجاب کا تنازعہ دسمبر 2021 میں ایک کالج سے شروع ہوا تھا، جب ایک کالج میں کلاس کے اندر حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس پر 8 مسلم طالبات نے مخالفت کی اور کہا کہ کالج انہیں حجاب پہننے سے نہیں روک سکتا، کیونکہ یہ ان کی مذہبی آزادی ہے۔ اس کے بعد حجاب کی مخالفت میں کچھ بچوں نے بھگوا رومال اور شال پہننے شروع کردیئے، جس سے تنازعہ مزید بڑھ گیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ کئی دیگر کالجوں میں شروع ہوگیا۔ حال ہی میں کچھ کالج نے چھٹی کرکے اس کا حل نکالا تو ایک کالج میں حجاب پہنی لڑکیوں کو الگ بٹھا دیا گیا۔ وہیں، اس معاملے کو لے کر مسلسل احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے۔ وہیں دوسری طرف مسلم طالبات کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اب تک حجاب پر پابندی نہیں تھی، لیکن اچانک اس پر پابندی عائد کرکے ہماری بچیوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی منصوبہ بند سازش کی جا رہی ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: