اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ہماچل: کل شام تین بجے ہوگی کانگریس کے لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ، طے ہوگا سی ایم کا نام، جانئے کون کون ریس میں

    ہماچل: کل شام تین بجے ہوگی کانگریس کے لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ، طے ہوگا سی ایم کا نام، جانئے کون کون ریس میں (File Photo-twitter@INCHimachal)

    ہماچل: کل شام تین بجے ہوگی کانگریس کے لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ، طے ہوگا سی ایم کا نام، جانئے کون کون ریس میں (File Photo-twitter@INCHimachal)

    Himachal Election Result: ہماچل پردیش میں کانگریس پارٹی ایک مرتبہ پھر سے اقتدار میں واپس آگئی ہے ۔ کانگریس نے واضح اکثریت کے ساتھ ہماچل میں واپسی کی ہے ۔ کانگریس نے 68 سیٹوں والی اسمبلی میں 40 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے جبکہ بی جے پی نے 25 سیٹیں جیتی ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Himachal Pradesh | Shimla
    • Share this:
      شملہ : ہماچل پردیش میں کانگریس پارٹی ایک مرتبہ پھر سے اقتدار میں واپس آگئی ہے ۔ کانگریس نے واضح اکثریت کے ساتھ ہماچل میں واپسی کی ہے ۔ کانگریس نے 68 سیٹوں والی اسمبلی میں 40 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے جبکہ بی جے پی نے 25 سیٹیں جیتی ہیں ۔ وہیں دیگر کے کھاتے میں تین سیٹیں گئی ہیں ۔ ہماچل میں جیت کے بعد اب کانگریس میں میٹنگوں کا دور شروع ہونے والا ہے ۔ کانگریس پارٹی کی اعلی قیادت کی ہلچل تیز ہوگئی ہے ۔

      اسی سلسلہ میں جمعہ کو ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ ہوگی ۔ یہ میٹنگ شام کو تین بجے کانگریس دفتر راجیو بھون میں ہوگی ۔ میٹنگ میں ہماچل پردیش کے انچارج راجیو شکلا اور آبزرور بھوپیش بگھیل اور بھوپیندر سنگھ ہوڈا موجود رہیں گے ۔ موصولہ جانکاری کے مطابق لیجلسیچر پارٹی کی میٹنگ میں اتفاق رائے سے اعلی کمان کو وزیر اعلی منتخب کرنے کا اختیار دئے جانے کی تجویر پاس کی جاسکتی ہے ۔

      یہ بھی پڑھئے: Himachal Result: ان 5 وجوہات سے کانگریس کو ہماچل میں ملی جیت، چل گیا پرینکا گاندھی کا جادو


      یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کو ملی عوامی حمایت نئے ہندوستان کی امنگوں کی عکاس : وزیر اعظم مودی


      آئیے جانتے ہیں کہ ہماچل کے سی ایم کی ریس میں کانگریس کا کون کون لیڈر

      پرتیبھا سنگھ اور ممبر اسمبلی بیٹا وکرمادتیہ دعویداری میں آگے

      دراصل پچھلی تین دہائیوں سے ہماچل میں کانگریس مطلب ویر بھدر سنگھ ہی رہا ہے ۔ اس مرتبہ بھی پارٹی نے ویر بھدر سنگھ کا چہرہ سامنے رکھ کر ہی الیکشن لڑا ہے ، ایسے میں ان کی اہلیہ پرتیبھا سنگھ جو موجودہ ریاستی صدر ہیں، وہ وزیر اعلی عہدہ کی دعویداری میں خود کو سب سے آگے مان رہی ہیں ۔ پارٹی نے ان کے ممبر اسمبلی بیٹے وکرمادتیہ کو دوسری مرتبہ بھی ٹکٹ دیا تھا اور وہ جیت گئے ہیں ۔ حالانکہ نہ تو پرتیبھا سنگھ اور نہ ہی وکرمادتیہ کے پاس ایڈمنسٹریٹیو تجربہ ہے اور یہ بات ان کے خلاف جاتی ہے ۔

      سکھویندر سنگھ نے بڑھایا اپنا نام

      ہماچل میں سب سے طاقتور ذات راجپوت ہے ، جس میں سے ایک لیڈر سکھویندر سنگھ سککھو ، پرتیبھا سنگھ کی دعویداری کے خلاف ہیں اور وہ خود وزیر اعلی عہدہ پر دعوی پیش کررہے ہیں ۔ وہ کیمپین کمیٹی کے چیئرمیں ہیں اور عام خاندان سے آتے ہیں ۔

      کلدیپ سنگھ راٹھور کی لگ سکتی ہے لاٹری

      ٹھیوگ سے ممبر اسمبلی بنے کلدیپ سنگھ راٹھور بھی دو ٹھاکروں کی لڑائی میں سی ایم بن سکتے ہیں ۔ پرتیبھا بنام سککھو کی لڑائی میں کلدیپ ک لاٹری لگ سکتی ہے ۔ کلدیپ فی الحال کانگریس کے قومی ترجمان اور سابق ریاستی صدر رہ چکے ہیں ۔

      مکیش اگنی ہوتری اور سدھیر شرما بھی ریس میں شامل

      دو براہمن لیڈروں کا نام اہمیت کے ساتھ سامنے آرہا ہے ۔ پہلا مکیش اگنی ہوتری اور دوسرا سدھیر شرما ۔ حالانکہ ذات پات کی سیاست میں ٹھاکروں کے مقابلہ میں برہمن کو ترجیح دے پانا اعلی قیادت کیلئے سیاسی طور پر مشکلات کا سبب بن سکتا ہے ۔ بی جے پی سے راجپوت جے رام ٹھاکر ہی ریاست کے وزیراعلی بنے تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: