ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

خاتون کا الزام ، جھولا چھاپ ڈاکٹر نے مجبوری کا فائدہ اٹھاکر پہلے کی آبروریزی اور پھر کی یہ گندی حرکت

خاتون کے مطابق قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے ملزم ڈاکٹر نے سیاسی لیڈروں اور پولیس کی مدد سے خاتون پر شادی کا دباو بنایا اور کچھ وقت بعد ملزم نے خاتون سے شادی بھی کرلی ، لیکن جھوٹا نکاح نامہ تیار کرایا گیا ۔

  • Share this:
خاتون کا الزام ، جھولا چھاپ ڈاکٹر نے مجبوری کا فائدہ اٹھاکر پہلے کی آبروریزی اور پھر کی یہ گندی حرکت
علامتی تصویر

ہماچل پردیش میں سرمور ضلع کے پاونوٹا صاحب کی رہنے والی ایک خاتون نے جھولاچھاپ ڈاکٹر پر آبروریزی ، اذیت رسانی ، مار پیٹ اور قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے جھوٹی شادی کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے ۔ خیال رہے کہ ریاستی راجدھانی شملہ میں پریس کانفرنس کے دوران خاتون نے بتایا کہ اس نے ملزم ڈاکٹر کی کلینک میں دو سالوں تک کام کیا ۔ سال 2013 میں ڈاکٹر نے اس کی آبروریزی کی تھی ۔


خاتون نے مزید بتایا کہ اس کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاکر ملزم اس کے ساتھ یہ گندی حرکت کرتا رہا ۔ وہیں قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے ملزم ڈاکٹر نے سیاسی لیڈروں اور پولیس کی مدد سے خاتون پر شادی کا دباو بنایا اور کچھ وقت بعد ملزم نے خاتون سے شادی بھی کرلی ، لیکن جھوٹا نکاح نامہ تیار کرایا گیا ۔


متاثرہ خاتون نے پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پیسے لے کر معاملہ کو دبانے کی کوشش کی گئی ۔ خاتون کا کہنا ہے کہ آبروریزی کے معاملات کو زبردستی گھریلو تشدد میں بدل دیا گیا ۔ ملزم بااثر شخص ہے اور وہ کئی طرح کے معاملات میں ملوث رہا ہے ۔ خاتون کا کہناہے کہ ملزم کے غلط کاموں میں مقامی ممبر اسمبلی نے بھی اس کی مدد کی ہے ۔


متاثرہ نے کہا کہ اس معاملہ میں پولیس عدالت کے حکم کی بھی خلاف ورزی کررہی ہے ۔ خاتون کا کہنا ہے کہ معاملہ میں صحیح جانچ نہیں کی جارہی ہے ۔ تقریبا چار سالوں تک پولیس اس معاملہ کو الجھاتی رہی ۔ متاثرہ کا یہاں تک کہنا ہے کہ دو سالوں تک اس نے نرس کے طور پر کلینک میں کام کیا ، لیکن آج تک اس کو تنخواہ نہیں دی گئی ۔ اب خاتون انصاف کی فریاد کررہی ہے ۔
First published: Dec 29, 2019 02:25 PM IST