آئی پی ایچ وزیر کے آبائی ضلع منڈی میں پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہا ہے 88 سالہ یہ شخص

تھک ہار اور مایوس ہو کر بکشی نے وزیر اعلی جے رام ٹھاکر اور آئی پی ایچ کے وزیر مہندر سنگھ ٹھاکر کو بھی کئی مرتبہ پینے کے پانی کی پریشانی کا حل کرنے کیلئے شکایتی خط بھیجا ، لیکن کوئی بھی کارروائی نہیں ہوئی ۔

Aug 30, 2019 10:53 PM IST | Updated on: Aug 30, 2019 10:53 PM IST
آئی پی ایچ وزیر کے آبائی ضلع منڈی میں پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہا ہے 88 سالہ یہ شخص

آئی پی ایچ وزیر کے آبائی ضلع منڈی میں پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہا ہے 88 سالہ یہ شخص

ہماچل پردیش حکومت میں آب پاشی اور پبلک ہیلتھ کے وزیر مہندر سنگھ ٹھاکر کے آبائی ضلع منڈی کے سندر نگر سب ڈویزن کے تحت آنے والی گرام پنچایت بروٹی کے بنوڑا علاقہ میں 88 سالہ بکشی رام برسات کے دنوں میں بھی پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔ ضلع انتظامیہ اور سب ڈویزن محکمہ کے بار بار چکر کاٹنے کے باوجود سینئر سٹیزن بکشی رام کی محنت 8 ماہ گزر جانے کے بعد بھی رنگ نہیں لائی ہے ۔

تھک ہار اور مایوس ہو کر بکشی نے وزیر اعلی جے رام ٹھاکر اور آئی پی ایچ کے وزیر مہندر سنگھ ٹھاکر کو بھی کئی مرتبہ پینے کے پانی کی پریشانی کا حل کرنے کیلئے شکایتی خط بھیجا ، لیکن کوئی بھی کارروائی نہیں ہوئی ۔ اتنا ہی نہیں ، بلکہ سندر نگر کے ممبر اسمبلی راکیش جوال کو بھی بکشی رام نے ذاتی طور پر پریشانی سے واقف کرایا ، لیکن پریشانی جوں کی توں برقرار ہے ۔

Loading...

بکشی رام کو اس بات کا کافی افسوس ہے کہ آئی پی ایچ محکمہ نے جس جگہ سے پانی کے کنیکشن کے دو حصے کئے ہیں ، اس سے 50 میٹر کی دوری پر اس کا گھر ہے ، لیکن پھر بھی نل میں پانی نہیں آتا ہے ۔ وہیں اس کے برعکس اسی پائپ سے جو کنیکشن پڑوسی کو نیچے کی جانب دیا گیا ہے ، اس میں مسلسل پانی کی سپلائی کی جارہی ہے ۔ بھلے ہی محکمہ کے افسران نے علاقہ کا دورہ کیا ہو ، لیکن پریشانی برقرار ہے ۔ بکشی رام نے دو مرتبہ محکمہ کے افسران ، وزیر اعلی ، وزیر ، ضلع انتظامیہ اور مقامی ممبر اسمبلی سے فریاد کی کہ پینے کے پانی کی پریشانی کا کوئی مستقل حل نکال کر زندگی کے ان آخری لمحات میں ان کو راحت دی جائے ، ورنہ مجبور ہو کر تامرگ انشن پر بیٹھنا پڑے گا ۔

ادھر سماجی کارکن کشل کمار سکلانی کا کہنا ہے کہ آئی پی ایچ محکمہ کے افسران کی عمل سے ہر کوئی پریشان ہے ۔ انہوں نے آئی پی ایچ وزیر اور وزیر اعلی سے ذاتی طور پر افسران کے طرز عمل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تاکہ عوام راحت کی سانس لے سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ بکشی رام کی پریشانی کو قانونی کارروائی کے ذریعہ حل کرائیں گے اور کام میں لاپروائی برتنے والے افسران کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکٹھائیں گے ۔

Loading...