ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

رانچی کا ہندپیڑھی علاقہ کنٹینمنٹ زون سے باہر ، ان واقعات کی وجہ سے لاک ڈاون کے دوران رہا سرخیوں میں

31 مارچ کو تبلیغی جماعت میں شامل 22 سالہ ملیشیائی خاتون کو کورونا سے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا تھا ۔ کورونا پازیٹیو کا یہ معاملہ نہ صرف رانچی بلکہ پوری ریاست کا پہلا معاملہ تھا ۔

  • Share this:
رانچی کا ہندپیڑھی علاقہ کنٹینمنٹ زون سے باہر ، ان واقعات کی وجہ سے لاک ڈاون کے دوران رہا سرخیوں میں
رانچی کا ہندپیڑھی علاقہ کنٹینمنٹ زون سے باہر ، ان واقعات کی وجہ سے لاک ڈاون کے دوران رہا سرخیوں میں

جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی کے قلب میں واقع کثیر مسلم آبادی والا علاقہ ہند پیڑھی کو کنٹینمنٹ زون سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ محکمہ آفات اور ضلع انتظامیہ کے افسران نے میٹنگ میں گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصہ سےکورونا کے ایک بھی مثبت معاملہ سامنے نہیں آنے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا ۔ اس فیصلہ کے بعد ضلع انتظامیہ کی نگرانی میں ہند پیڑھی علاقہ کے تمام شاہراہوں کو کھول دیا گیا ہے ۔ ہندپیڑھی علاقہ کو کنٹینمنٹ زون سے آزاد کئے جانے سے علاقہ کے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔


واضح رہے کہ 31 مارچ کو تبلیغی جماعت میں شامل 22 سالہ ملیشیائی خاتون کو کورونا سے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا تھا ۔ کورونا پازیٹیو کا یہ معاملہ نہ صرف رانچی بلکہ پوری ریاست کا پہلا معاملہ تھا ۔ تاہم اس انکشاف کے بعد اس علاقہ میں بیرون ممالک کے قیام پذیر تبلیغی جماعت سے وابستہ سبھی سترہ لوگوں کو رانچی کے کھیل گاوں میں واقع کوارنٹائن سینٹر میں داخل کر دیا گیا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی جماعت سے وابستہ درجنوں مقامی لوگوں کو بھی کوارنٹائن سینٹر بھیجا گیا تھا ۔ پانچ اپریل کو کورونا مثبت کا دوسرا معاملہ آنے کے بعد اس علاقہ میں لاک ڈاؤن کے ضابطے کو سختی سے لاگو کرنے کا عمل شروع کیا گیا ، لیکن لوگوں کی لاپروائی کے بعد اس علاقہ کو مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ علاقہ میں پولیس چوکسی میں اضافہ کردیا گیا اور ساتھ ہی ڈرون کیمروں سے نگرانی کی گئی ۔


چند واقعات کو لے کر سرخیوں میں رہا ہند پیڑھی


لاک ڈاؤن اور کنٹینمنٹ زون کے دوران کئی واقعات کے لئے ہندپیڑھی سرخیوں میں رہا ہے۔ صفائی ملازمین نے اپنے اوپر تھوکے جانے کا الزام لگایا ، لیکن جانچ میں انتظامیہ نے اسے بے بنیاد قرار دیا ۔ وہیں محکمہ صحت سے وابستہ ملازمین نے مقامی لوگوں پر بدسلوکی کا الزام لگایا ۔ ساتھ ہی چند پولیس اہلکار نے مارپیٹ کا بھی الزام لگایا ۔ اسی درمیان ریاستی حکومت نے اس علاقہ میں سی آر پی ایف جوانوں کے تعیناتی کا فیصلہ کیا ، جس کے بعد علاقہ میں سختی میں مزید اضافہ ہو گیا۔


ایک موقع ایسا بھی آیا جب سی آر پی ایف جوانوں کے ساتھ مقامی نوجوانوں کا ٹکراو ہوگیا۔ جوانوں پر پتھراو کی بھی شکایت ملی ۔ حالات پر قابو پانے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغنے کی بھی خبر ملی ۔ ہندپیڑھی کے کئی معاملات کی میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر غلط طریقے سے تشہیر کی گئی ۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے میڈیا کے سوال کے جواب میں صاف طور پر ہندپیڑھی کو ٹارگٹ کرنے کی بات کہی ۔

واضح رہے کہ ضلع انتظامیہ کے ذریعہ اس علاقہ کی نگرانی کے لئے گرونانک اسکول احاطہ میں کنٹرول روم کا قیام کیا گیا ۔ جہاں ڈپٹی کمشنر رائے مہیماپت رے اور ایس ایس انیس گپتا و دیگر افسران کے ساتھ مسلسل علاقے کے لوگوں کی خبر گیری کرتے رہے ۔ لوگوں کو کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کے ساتھ ساتھ علاقہ کے لوگوں کی طبی جانچ کا عمل بھی پورا کراتے رہے ۔ اس درمیان وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقہ کے آٹھ ہزار خاندان کے درمیان رسد کٹ فراہم کرایا ۔
First published: Jun 09, 2020 07:13 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading