بابری مسجد- رام مندرمعاملہ: ہندومہا سبھا نےکہا- ثالثی کا اب کوئی مطلب نہیں، رام مندرکی ہی ہوگی تعمیر

ہندومہا سبھا اوردیگرہندووادی تنظیموں نےکہا ہےکہ ملک میں لوجہاد کو فروغ دینےکےلئےغیر ممالک سےپیسہ آرہا ہے۔

Oct 17, 2019 09:00 PM IST | Updated on: Oct 17, 2019 09:00 PM IST
بابری مسجد- رام مندرمعاملہ: ہندومہا سبھا نےکہا- ثالثی کا اب کوئی مطلب نہیں، رام مندرکی ہی ہوگی تعمیر

بابری مسجد۔ رام جنم بھومی ایودھیا کے زمینی تنازعہ۔(تصویر:نیوز18)۔

نئی دہلی: اکھل بھارتیہ ہندومہاسبھا نےاجودھیا معاملے میں ثالثی کی تجویزکوخارج کرتے ہوئےکہا ہےکہ اس کا اب کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے اورمتنازعہ زمین پراب رام مندرہی بن کررہےگا۔ اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے قومی ترجمان ڈاکٹر پاتال ناتھ جی اودھوت نےیہاں چھتیس گڑھ کےدھمتری سےمتعلق لوجہاد کےایک معاملے پربحث کےلئے جمعرات کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں یہ بات کہی۔

ہندومہاسبھا اوردیگرہندووادی تنظیموں نےکہا ہےکہ ملک میں لوجہاد کو فروغ دینےکےلئے غیرممالک سے پیسہ آرہا ہے، جسے روکنے کےلئے حکومت کو مذہب کی تبدیلی پرسخت قانون بنانا چاہئے۔ چھتیس گڑھ کے دھمتری کے رہنےوالے اشوک کمارجین نے اپنی 23سالہ بیٹی انجلی کےلوجہاد کا شکار بننے کا الزام لگاتے ہوئےکہا کہ محمد ابراہیم صدیقی نامی شخص نے فرضی پہچان بتاکران کی بیٹی کواپنی محبت کے جال میں پھنسایا اوراس سے شادی کرلی۔

واضح رہےکہ تاریخ کے صفحات کوپلٹتے ہوئے لمبی بحث کے بعد اجودھیا کی متنازعہ زمین سے متعلق مقدمے پر40 دن تک چلی جرح ہونے کے بعد یہ تاریخی سماعت کل اختتام کو پہنچ گئی ہے۔ اب پورے ملک کی نگاہیں اس معاملے کے فیصلے ٹکی ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی 17 نومبرکو ریٹائرہورہے ہیں، اس لئے اس سے قبل اس معاملے پرفیصلہ آسکتا ہے۔

Loading...

Loading...