உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رمضان المبارک کے موقع پر رانچی میں بھائے چارے کاماحول

     دانشوروں کا ماننا ہے کہ قیام رانچی کے دوران مولانا ابوالکلام آزاد کی تقاریر کا اثر آج بھی رانچی میں برقرار ہے۔ رانچی جھارکھنڈ کی دارالحکومت ہے ۔ سولہ لاکھ سے زائدآبادی والے اس شہر میں مسلم اقلیت کی آبادی چھ لاکھ کے قریب ہے

    دانشوروں کا ماننا ہے کہ قیام رانچی کے دوران مولانا ابوالکلام آزاد کی تقاریر کا اثر آج بھی رانچی میں برقرار ہے۔ رانچی جھارکھنڈ کی دارالحکومت ہے ۔ سولہ لاکھ سے زائدآبادی والے اس شہر میں مسلم اقلیت کی آبادی چھ لاکھ کے قریب ہے

    دانشوروں کا ماننا ہے کہ قیام رانچی کے دوران مولانا ابوالکلام آزاد کی تقاریر کا اثر آج بھی رانچی میں برقرار ہے۔ رانچی جھارکھنڈ کی دارالحکومت ہے ۔ سولہ لاکھ سے زائدآبادی والے اس شہر میں مسلم اقلیت کی آبادی چھ لاکھ کے قریب ہے

    • Share this:
      ماہ رمضان المبارک کے موقع پر رانچی میں آپسی بھائے چارے کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ قیام رانچی کے دوران مولانا ابوالکلام آزاد کی تقاریر کا اثر آج بھی رانچی میں برقرار ہے۔ رانچی جھارکھنڈ کی دارالحکومت ہے ۔ سولہ لاکھ سے زائدآبادی والے اس شہر میں مسلم اقلیت کی آبادی چھ لاکھ کے قریب ہے ۔ کسی زمانہ میں رانچی شہر جنگلات سے گھیرا ہوا علاقہ تھا ۔ تاریخ داں کے مطابق اس علاقہ کو بادشاہ شیر شاہ سوری کے علاوہ کئی بادشاہوں کی فوج نے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا ۔ تبھی سے اس علاقہ میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ مانتے ہیں۔

      رانچی شہرمیں عظیم مجاہد آزادی و ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے تقریباً چار سال نظر بند ی کے دن گذارے ہیں ۔ اس درمیان انہوں نے یہاں علمی اور سماجی کارنامے کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم اتحاد کو پائیدار بنانے میں مثالی کارنامہ انجام دیا ۔ مولانا آزاد کی تقریر کو سننے کے لئے بڑی تعداد میں غیر مسلم افراد بھی آیا کرتے تھے۔لوگوں کا ماننا ہے کہ مولانا آزاد کی تقریر کا اثر آج بھی رانچی میں برقرار ہے۔رانچی شہر میں ہندو۔مسلم ۔ سکھ ۔عیسائی ۔ آدیواسی ۔ کے علاوہ کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں ۔ خوشی کی بات تو یہ ہے کہ تہواروں کے موقعوں پر بھائے چارے کامثالی نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ دیکھئے نوشاد عالم کی یہ رپورٹ
      First published: