ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدد:جلائی اور لوٹی جارہی تھی مسلمانوں کی دکانیں لیکن بھجن پورہ میں شرپسند عناصر کو ایسے ہوئی مایوسی

مسلم دوکاندار بھی ان کی دکان پر پہنچے اور اپنی لوٹی ہوئی دکانوں کا شٹر اٹھایا ۔ لوٹی ہوئی دکانوں کا درد بھاری تھا۔ اس موقع پر ہندو دکاندار مسلم بھائیوں کے دکھ درد بانٹتے ہوئے دیکھے گئے۔

  • Share this:
دہلی تشدد:جلائی اور لوٹی جارہی تھی مسلمانوں کی دکانیں لیکن بھجن پورہ میں شرپسند عناصر کو ایسے ہوئی مایوسی
جلی ہوئی یہ دکان لوٹ مار کا درد بیاں کر رہی ہے

شمال مشرقی دہلی میں حالیہ دنو ں میں ہوئے تشدد کے بعد زندگی اب معمول کی طرف لوٹ رہی ہے ۔موج پور مین مارکٹ میں دکانیں کھلی ہوئی ہیں ۔یہاں دو دن پہلے ہی سے دکانیں کھلنا شروع ہوگئیں تھیں۔ آج مسلم دوکاندار بھی ان کی دکان پر پہنچے اور اپنی لوٹی ہوئی دکانوں کا شٹر اٹھایا ۔ لوٹی ہوئی دکانوں کا درد بھاری تھا۔ اس موقع پر ہندو دکاندار مسلم بھائیوں کے دکھ درد بانٹتے ہوئے دیکھے گئے۔موج پور مین مارکٹ میں آگ زنی کی وجہ سے اٹھےدھوے سے کالی ہوچکی ایک دکان کو لوٹ لیا گیا ۔جلی ہوئی یہ دکان لوٹ مار کا درد بیاں کر رہی ہے ۔حالانکہ بازار میں پھر سے زندگی پڑی پر لوٹتی نظر آرہی ہے ۔ بیشتر دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ اس مارکٹ کی گلی نمبر 1 میں محمد افسر کی آرٹیفیشل جیولری زیورات اور چوڑیوں کی دکان ہے۔ اسے لوٹا گیا ہے لیکن اس گلی میں تقریباً چار دکانیں دوسرے مسلم دوکانداروں کی ہیں ان مسلم دکانداروں کی دکانوں کو نہیں لوٹا جا سکا کیونکہ مقامی ہندودکانداروں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شر پسند عناصر سے انہیں بچا لیا۔


دہلی تشدد کے دوران لی گئی تصویر میں پولیس ایک دکان میں لگائی گئی آگ پرقابوپاتے ہوئے۔(تصویر:نیوز18)۔
دہلی تشدد کے دوران لی گئی تصویر میں پولیس ایک دکان میں لگائی گئی آگ پرقابوپاتے ہوئے۔(تصویر:نیوز18)۔


اسی مارکٹ کی گلی نمبر 2 میں شاہ عالم نوجوان کی دکان سوہا بینگلس اینڈ کاسمیٹکس ہے ۔س دکان کو بھی لوٹ مار کا شکار بنایا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی لیکن سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہونے کے باوجود بھی یہاں پر کسی بھی ہندو دکاندار کی دکان کو کو لوٹ مار کا شکار نہیں بنایا گیا۔گلی نمبر 3 میں ریمنڈ کا شو روم ہے ظہیر اینڈ سنز کے نام سے مشہور شوروم کو بھی نہیں بخشا گیا ہے ۔یہاں سے یہاں تک کہ دو کروڑ کا کپڑا لوٹ لیا گیا ہے اور ائرکنڈیشن تک اکھاڑ دیا گیا ہے ۔پورے شوروم میں لوٹ کے بعد کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے۔ ظہیر اینڈ سنس شوروم کے اوپر کی دو مسلم دکانداروں کی دکانیں بھی لوٹ لی گئی ہیں۔


گلی نمبر 10 کی ایک دکان کا شٹرتوڑ کر اور اندر سے لوٹی گئی،تمام زیورات لوٹ لیے گئے۔ اپنا بازار نام کی دکان ہے ، دکان کے نام سے نہیں پتہ چلتا کہ یہ کسی مسلم دکاندار کی ہے یا کسی مسلمان کی ہے لیکن اس کو بری طرح سے لوٹ لیا گیا ہے دکان میں جتنا بھی آرٹیفیشل جولری کا اسٹاک تھا سب کچھ لوٹ لیا گیا ہے۔ گلی نمبر 4 کی ایک دکان جس میں 3000 سے زیادہ مختلف اقسام کے چیزیں اور سامان ملتا تھا ، اس دکان کے مالک بتاتے ہیں وہاں 1.25 لاکھ سے زیادہ کرایہ تھا۔ اسی درمیان بھجن پورہ مین بازار کے اس علاقے میں سروے کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے سروے کرنے والے ایک افسر نے بتایا بھجن پورہ کے علاقے میں متعدد ٹیمیں کام کر رہی ہیں لیکن صرف ان کی ٹیم کو 47 سے زیادہ معاملات ملے ہیں ۔

 مسلم دوکاندار بھی ان کی دکان پر پہنچے اور اپنی لوٹی ہوئی دکانوں کا شٹر اٹھایا ۔ لوٹی ہوئی دکانوں کا درد بھاری تھا
مسلم دوکاندار بھی ان کی دکان پر پہنچے اور اپنی لوٹی ہوئی دکانوں کا شٹر اٹھایا ۔ لوٹی ہوئی دکانوں کا درد بھاری تھا


بھجن پورہ مین مارکٹ کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں صرف مسلم برادری کی دکانوں کو لوٹا گیا ہے۔اس علاقے کے سب سے بڑے بازار اور مارکٹ کے طور پر جانے جانے والے بھجن پورہ مین مارکٹ میں سینکڑوں دکانیں ہیں لیکن صرف پچاس سے زیادہ مسلم طبقے کی دکانوں کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے ۔ہندو دوکانداروں نے بتایا کوشش کے باوجود بھی وہ مسلم بھائیوں کی دکانیں لوٹ مار سے نہیں بچا سکے فسادیوں کے شر پسند عناصر کے سامنے لاچار ہوگئے

یہاں غیر مسلم دوکانداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود ہی کھڑے ہوکر اپنی دکانوں کو بچایا ہے لیکن کوشش کرنے کے بعد بھی وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی دکانوں پر ہورہی لوٹ مار کو نہیں روک سکے۔ ہجوم اورشر پسند عناصر کے سامنے وہ مجبور ہوکر رہ گئے ، ہندو دوکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں مسلم بھائی اپنی دکانیں کھولیں۔3 غیر مسلم دوکانداروں نے بتایا کہ انہوں نے گلی نمبر1 میں محمد افسر کی دکان کو کئی مرتبہ بچایا ۔لوٹ مار کرنے والوں سے کافی سامان چھین کر دکان میں واپس رکھ دیا۔ لیکن وہ سب کچھ نہیں روک سکے۔ ہندو دکانداروں کی کاوشوں سے مسلم برادری کی بہت ساری دکانوں کو لوٹ مار سے بچایا گیا ہے۔ لیکن جس طرح سے دکانوں کو لوٹا گیا ہے اسے دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ یہ سب کچھ بغیر منصوبہ بندی کیے بغیر ہوا ہو لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہندو مسلمان دوکانداروں میں اب بھی اعتماد باقی ہے اور فسادی دکانوں میں موجود سامان لوٹنے کے بعد بھی ہندومسلم بھائی چارہ لوٹنے میں میں کامیاب نہیں ہوپائے ہیں
First published: Mar 04, 2020 10:57 AM IST